جنوبی ایشیا40سال کی بدترین معیشت کی جانب بڑھ رہا ہے،ورلڈ بینک

پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار 1952 کے بعد پہلی مرتبہ منفی ہونے کا خدشہ

واشنگٹن: (پاکستان فوکس آن لائن)عالمی بینک نے پاکستان کی معیشت پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے رپورٹ میں کہا ہے کہ ملکی مجموعی قومی پیداوار 1952 کے بعد پہلی مرتبہ منفی ہونے کا خدشہ ہے۔عالمی بینک نے کورونا وائرس کے باعث پاکستان کی معیشت پر پڑنے والے اثرات کاجائزہ لیتے ہوئے رسک رپورٹ جاری کردی ہے جس میں پاکستان کے لیے معاشی خطرات ظاہر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار 1952 کے بعد پہلی مرتبہ منفی ہونے کا خدشہ ہے اور پاکستان کی معیشت مزید دو سال تک دباؤ کا شکار رہے گی۔
تفصیلات کے مطابق ورلڈ بینک نےپاکستان میں کوروناکی وجہ سےمعاشی بحران کاخدشہ ظاہر کر دیا ،ورلڈ بینک رپورٹ کےمطابق پاکستان، بھارت سمیت جنوبی ایشیا کے8 ملکوں میں شرح ترقی 40سال کی بدترین پستی پر جانےکاامکان ہے ۔ورلڈ بینک نے اپنی نئی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان، بھارت سمیت جنوبی ایشیا کے آٹھوں ملکوں میں شرح ترقی 40 سال کی بدترین پستی پرجانے کاامکان ہے ۔ ورلڈ بینک کے مطابق جنوبی ایشیا کے ملکوں کی ترقی کی شرح 1 اعشاریہ 8 فیصد سے 2 اعشاریہ 8 فیصد ترک رہنے کا امکان ہے. کورونا وائرس کی وباء سےپہلے جنوبی ایشیا کی شرح ترقی 6 اعشاریہ 3 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی گئی تھی ۔ ورلڈ بینک نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارت کی شرح ترقی ایک اعشاریہ پانچ فیصد سے دو اعشاریہ آٹھ فیصد رہنے کی توقع ہے۔ کورونا وائرس کی وبا سے پہلے بھارت کی شرح ترقی 4 اعشاریہ 8 فیصد سے 5 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی گئی تھی۔
ورلڈبینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان ، افغانستان اور مالدیپ میں معاشی بحران پیدا ہو سکتا ہے، جبکہ سری لنکا، نیپال، بھوٹان اور بنگلہ دیش کی شرح ترقی میں بڑی کمی ہوگی۔ طویل لاک ڈاؤن کی صورت میں پورے خطے کی معیشت سکڑ سکتی ہے اس لئے خطے کے ملک بیروزگاروں، کاروبار کے لیے مزید مالیاتی اقدامات کا اعلان کریں۔ ورلڈ بینک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوبی ایشیاء پر اس کے منفی اثرات بڑھتے جارہے ہیں ،سیاحتی سرگرمیاں معطل ہیں،زرائع ترسیلات متاثر ہوئے ہیں جبکہ گارمنٹس کی طلب میں کمی واقع ہوئی ہے اور صارفین اور سرمایہ کاروں کونقصان پہنچا ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *