برطانیہ نے چینی کمپنی ہواوے کی فائیو جی ٹیکنالوجی پر پابندی عائد کردی

موبائل فون کمپنیوں کو 2027 سے پہلے اپنے نیٹ ورکس سے تمام چینی کمپنیوں کی فائیو جی کٹ کو ہٹانا ہوگا

لندن: (پاکستان فوکس آن لائن) برطانیہ نے چینی کمپنی ہواوے کی فائیو جی ٹیکنالوجی پر پابندی عائد کردی۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق برطانیہ میں موبائل فون کے کاروبار سے وابستہ افراد پر 31 دسمبر 2020 کے بعد سے چینی کمپنی ہواوے کی فائیو جی ٹیکنالوجی خریدنے پر پابندی عائد کی گئی ہے جب کہ موبائل فون کمپنیوں کو 2027 سے پہلے اپنے نیٹ ورکس سے تمام چینی کمپنیوں کی فائیو جی کٹ کو ہٹانا ہوگا۔برطانیہ کے ڈیجیٹل سیکرٹری اولیور ڈاؤڈین نے پارلیمان کو اس حکومتی فیصلے سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے اس اقدام سے ملک میں ایک سال سے پہلے فائیو جی کا آغاز تاخیر کا شکار ہوگا۔
برطانوی میڈیا کے مطابق برطانیہ نے یہ پابندی امریکا کی چین پر پابندیوں کے بعد لگائی ہے جس میں ہواوے کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا گیا ہے۔برطانوی ڈیجیٹل سیکرٹری کا کہنا تھا کہ ہواوے پر پہلے سے عائد پابندیوں اور اب کے حکومتی اقدامات کی مجموعی لاگت 2 ارب برطانوی پاؤنڈ تک ہوگی۔انہوں نے کہا کہ یہ حکومت کے لیے کوئی آسان فیصلہ نہیں لیکن برطانوی ٹیلی کام سیکٹر، ہماری قومی سلامتی اور معیشت کے لیے درست فیصلوں میں سے ایک ہے جنہوں نے یقیناً اب ایک ساتھ آگے بڑھنا ہے۔دوسری جانب برطانوی حکومت کے فیصلے پر ہواوے نے اپنے رد عمل میں کہا ہےکہ یہ برطانیہ میں موبائل فون رکھنے والے ہر ایک شخص کے لیے بری خبر ہے جس سے اس بات کا خطرہ ہے کہ برطانوی شہری ڈیجیٹل کے سست رفتار دور میں شامل ہوجائیں گے۔کمپنی کا کہنا ہےکہ حکومتی فیصلہ ہواوے کی صارفین کو اسمارٹ فونز فروخت کرنےکی صلاحیت کو متاثر نہیں کرتا۔برطانیہ میں تعینات چینی سفیر نے بھی برطانوی حکومت کے فیصلے کو مایوس کن اور غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک سوالیہ نشان بن گیا ہےکہ کیا برطانیہ دوسرے ممالک کے مقابلے میں کمپنیوں کو کھلا اور غیر امتیازی کاروباری ماحول فراہم کرسکتا ہے۔ادھر امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے برطانوی حکومت کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ اس اقدام سے ان ملکوں کی فہرست میں شامل ہوگیا ہے جو اپنی قومی سلامتی کے لیے ایسی ناقابل بھروسہ کمپنیوں پر پابندی عائد کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *