کورونا وائرس کا خوف، امریکا میں مکمل لاک ڈاؤن پر غور

نیویارک اور لاس اینجلس میں بار، ریستوران،تھیٹرز سینمااورپبلک اسکولز بن

نیویارک: (پاکستان فوکس آن لائن)کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے امریکہ کے شہروں نیویارک اور لاس اینجلس کے تمام بارز، ریستوران، تھیٹرز اور سنیما ہالز کو بند کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔ساتھ ہی جنوبی و وسطی امریکہ سے ملحقہ ممالک کی سرحدیں بھی بند کر دی گئی ہیں۔برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق نیو یارک کے میئر بل ڈی بلیسو نے میڈیا کو بتایا کہ ریستوران، بار اور کیفیز سے صرف گھروں پر کھانے لے جانے کی اجازت ہو گی۔ وہاں بیٹھ کر کھانا نہیں کھایا جاسکتا۔ان کے بقول، وہ نائٹ کلبز، مووی تھیٹر، چھوٹے تھیٹر ہاؤسز اور کنسرٹ ہالز بند رکھنے کی ہدایات جاری کر چکے ہیں۔ اس بندش کا مقصد کرونا وائرس کے خلاف جنگ ہے۔دوسری جانب نیویارک کے تمام بڑے پبلک اسکولز بھی بند کر دیے گئے ہیں۔
نیویارک کے میئر بل ڈی بلاسیو نے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نیویارک میں کورونا کا تیز رفتار پھیلاؤ روکنے کےلیے لاک ڈاؤن سمیت ہر طرح کے اقدامات زیر غور ہیں۔واضح رہے کہ امریکا میں کورونا وائرس سے بدترین متاثرہ شہروں میں نیویارک سٹی سرِ فہرست ہے جہاں اس کے مریضوں کی تعداد صرف ایک ہفتے کے اندر اندر 25 سے بڑھ کر 270 ہوچکی ہے۔ میئر نیویارک نے خدشہ ظاہر کیا ہے اگلے چند دنوں کے اندر اندر یہ تعداد 1000 سے بڑھ سکتی ہے۔ہنگامی حالات کے پیشِ نظر میئر نیویارک نے صدر ٹرمپ سے فوری مدد کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ اشیائے صرف کی فراہمی بحال رکھنے کےلیے امریکا کی وفاقی حکومت ذمہ داری سنبھال لے کیونکہ یہ معاملہ مقامی حکومت کے بس سے باہر ہوتا جارہا ہے۔
نیویارک کے میئر بل ڈی بلاسیو نے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نیویارک میں کورونا کا تیز رفتار پھیلاؤ روکنے کےلیے لاک ڈاؤن سمیت ہر طرح کے اقدامات زیر غور ہیں۔واضح رہے کہ امریکا میں کورونا وائرس سے بدترین متاثرہ شہروں میں نیویارک سٹی سرِ فہرست ہے جہاں اس کے مریضوں کی تعداد صرف ایک ہفتے کے اندر اندر 25 سے بڑھ کر 270 ہوچکی ہے۔ میئر نیویارک نے خدشہ ظاہر کیا ہے اگلے چند دنوں کے اندر اندر یہ تعداد 1000 سے بڑھ سکتی ہے۔ہنگامی حالات کے پیشِ نظر میئر نیویارک نے صدر ٹرمپ سے فوری مدد کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ اشیائے صرف کی فراہمی بحال رکھنے کےلیے امریکا کی وفاقی حکومت ذمہ داری سنبھال لے کیونکہ یہ معاملہ مقامی حکومت کے بس سے باہر ہوتا جارہا ہے۔
دوسری جانب امریکا میں وبائی امراض کے نامور ماہر اور صدر ٹرمپ کی کورونا وائرس ٹاسک فورس کے رکن، ڈاکٹر انتھونی فاسی نے گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر کورونا وائرس کا وبائی پھیلاؤ روکنے کےلیے پورے امریکا کو مکمل طور پر لاک ڈاؤن بھی کرنا پڑ جائے تو وہ اس کی حمایت کریں گے۔’’امریکیوں کو یہ حقیقت سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جب یہ ملک اس بیماری کا پھیلاؤ روکنے کی کوشش کرے گا تو ملک کے حالات بہت مختلف نظر آنے لگیں گے،‘‘۔اعداد و شمار کے مطابق، امریکا میں پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے مزید 102 متاثرین سامنے آچکے ہیں، جس کے بعد وہاں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 3782 ہوچکی ہے جن میں سے 69 کی موت واقع ہوچکی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *