آبدوز اسکینڈل، 3 سابق فرانسیسی عہدیداروں سمیت 6 افراد کو سزا

کراچی افیئر کیس پر گزشتہ سال اکتوبر میں دوبارہ سے کارروائی کا آغاز ہوا تھا

پیرس: (پاکستان فوکس آن لائن)فرانس کی ایک عدالت نے 3 سابق فرانسیسی عہدیداروں سمیت 6 افراد کو 1994ء میں پاکستان اور سعودی عرب کو اسلحہ ڈیل میں لاکھوں یورو کمیشن لینے پر قید کی سزا سنادی۔فرانس میں کراچی گیٹ اسکینڈل کے نام سے مشہور کیس میں سابق فرانسیسی وزیراعظم ایڈورڈ بیلاڈور اور سابق پاکستانی وزیراعظم بے نظیر بھٹو کا نام بھی آتا رہا ہے۔ فرانسیسی وزیراعظم پر الزام تھا کہ انہوں نے اس ڈیل سے حاصل کردہ رقم کے ذریعے 1995ء میں اپنی صدارتی مہم کی فنڈنگ کی تھی۔
واضح رہے کہ کیس میں پاکستان کی سابق وزیراعظم اور سابق صدر پر بھی کرپشن کے الزامات لگتے رہے ہیں جبکہ پاکستان بحریہ کے ایک نیول چیف کو اپنی نوکری سے ہاتھ بھی دھونا پڑا تھا۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ‘‘کراچی گیٹ اسکینڈل یا کراچی افیئر کیس’’ پر گزشتہ سال اکتوبر میں دوبارہ سے کارروائی کا آغاز ہوا تھا، بیلاڈور 1995ء کے الیکشن میں سینٹر رائٹ حریف یاک شیراک کے مقابلے میں الیکشن ہار گئے تھے۔ 90 سالہ بیلاڈور 1993ء سے 1995ء کے درمیان فرانس کے وزیراعظم رہے تھے۔فرانسیسی میڈیا کے مطابق جس میں ایڈورڈ بیلاڈور نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ مذکورہ 20 ملین فرانک (تقریباً 3 ملین یورو) کی رقم ان کی ایک مہم کے دوران ٹی شرٹس اور دیگر اشیاء کی فروخت اور کچھ پارٹی اراکین کی جانب سے تحفے کی صورت میں حاصل ہوئی تھی۔
کراچی گیٹ اسکینڈل یا کراچی افیئر کیس کیا ہے؟
نواز شریف کے دور حکومت 1992ء میں پاکستان بحریہ کو اربوں روپے مالیت کی 3 نئی آبدوزیں خریدنے کی اجازت ملی تھی مگر فرانس سے آگسٹا آبدوزوں کی خریداری کا معاہدہ 1994ء میں بے نظیر بھٹو کے دور حکومت میں طے پایا۔فرانس میں اس معاملے پر عدالتی تحقیقات 1997ء سے جاری ہیں جبکہ پاکستان میں بھی اس کیس کی وجہ سے کئی شخصیات کو تحقیقات اور نوکری سے برطرفی کا سامنا کرنا پڑا جن میں سرفہرست اس وقت کے نیول چیف ایڈمرل منصور الحق تھے۔اپریل 2001ء میں امریکی حکام نے پاکستان نیوی کے سابق ایڈمرل منصور الحق (جو اس کیس کے حوالے سے تحقیقات میں شامل تھے) کو گرفتار کرکے پاکستان بھیج دیا گیا تھا، وہ ریٹائرمنٹ کے بعد امریکا میں قیام پذیر تھے۔پرویز مشرف کے دور حکومت 2002ء میں منصور الحق سے ان کا سابق عہدہ اور پنشن سمیت دیگر مراعات واپس لے لی گئی تھیں، بعد ازاں ایڈمرل منصور الحق نے نیب کے ساتھ پلی بارگین کرلی تھی۔دریں اثناء 2002ء میں آگسٹا آبدوز تیار کرنیوالے عملے کی گاڑی پر کار بم حملے میں 15 افراد جاں بحق ہوگئے تھے، جن میں 11 فرانسیسی انجینئر بھی شامل تھے، حملے کی ذمہ داری القاعدہ نے قبول کی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *