برطانیہ اور یورپی یونین میں نئی بریگزٹ ڈیل پر اتفاق

لندن: (پاکستان فوکس آن لائن) برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کے ساتھ نئی بریگزٹ ڈیل پر معاملات طے پا گئے ہیں۔
برطانوی وزیراعظم نے کہا ہے کہ نیا معاہدہ کر لیا ہے جس پر ہمارا کنٹرول ہے، پارلیمنٹ ہفتہ کو منظوری دے گی۔برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا نئے معاہدے پر گرفت مضبوط ہے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق دونوں وفود میں برسلز اجلاس سے پہلے ڈیل ہوگئی، شمالی آئرلینڈ کی پارٹی نے معاہدے کی مخالفت کر دی۔
برطانوی میڈیا کے مطابق بورس جانسن کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کے ساتھ نئی شاندار بریگزٹ ڈیل سے ہمیں اختیارات واپس مل جائیں گے۔وزیراعظم بورس جانسن یورپی یونین کی سمٹ میں شرکت کے لیے برسلز روانہ ہو گئے ہیں۔دوسری جانب شمالی آئرلینڈ سے تعلق رکھنے والی حکومت کی اتحادی جماعت ڈی یو پی نے ڈیل کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
ڈی یو پی رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ ڈیل کی موجودہ شرائط کے ساتھ اس کی حمایت نہیں کر سکتے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق ڈی یو پی کے ساتھ نہ دینے کی صورت میں حکومت کو پارلیمنٹ سے ڈیل منظور کرانے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔خیال رہے کہ وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالتے ہی بورس جانسن نے کہا تھا کہ اب چاہے کچھ بھی ہو برطانیہ 31 اکتوبر کو یورپی یونین سے علیحدہ ہوجائے گا۔ڈیوڈ کیمرون کے استعفے کے بعد برطانیہ کی وزیراعظم بننے والی ٹریزا مے نے جولائی میں بریگزٹ ڈیل کی پارلیمنٹ سے منظوری میں ناکامی کے بعد مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا اور ان کے بعد بورس جانسن نے عہدہ سنبھالا تھا۔
برطانیہ میں یورپی یونین میں رہنے یا اس سے نکل جانے کے حوالے سے 23 جون 2017 کو ریفرنڈم ہوا تھا جس میں بریگزٹ کے حق میں 52 جبکہ مخالفت میں 48 فیصد ووٹ پڑے جس کے بعد اس وقت کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کو عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا، کیوں کہ وہ بریگزٹ کے مخالف تھے۔واضح رہے کہ برطانیہ نے 1973 میں یورپین اکنامک کمیونٹی میں شمولیت اختیار کی تھی تاہم برطانیہ میں بعض حلقے مسلسل اس بات کی شکایات کرتے رہے ہیں کہ آزادانہ تجارت کے لیے قائم ہونے والی کمیونٹی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے رکن ممالک کی ملکی خودمختاری کو نقصان پہنچتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *