بلاول اور آصف زرداری نیب کو بیان ریکارڈ کروانے کے بعد واپس روانہ

نیب نے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کو گرفتار نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا

اسلام آباد: (پاکستان فوکس آن لائن) جعلی اکاؤنٹس کیس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور آصف علی زرداری سے نیب نے آج کی تفتیش مکمل کر لی جس کے دوران ان کو سوالنامہ تھما دیا گیا۔ نیب ٹیم نے دونوں رہنماوں کا بیان ریکارڈ کرنے کے بعد واپس جانے کی اجازت دے دی۔ سابق صدر آصف زرداری کو دیا گیا سوالنامہ 50 سے زائد سوالات پر مشتمل ہے، نیب آفس میں آصف زرداری کا بیان قلمبند کر لیا گیا۔ ذرائع کے مطابق تفتیش کے دوران آڈیوو یڈیو ریکارڈنگ بھی کی گئی۔ آصف زرداری، بلاول کو تحریری جواب کیلئے مزید وقت دیا جائیگا۔ آصفہ بھٹو سمیت مرکزی قیادت کو ہال میں بٹھایا گیا۔ آصف زرداری نیب آفس سے باہر آگئے جبکہ بلاول سے 5 رکنی نیب ٹیم نے پوچھ گچھ کی اور ان کو بھی سوال نامہ دیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے جعلی اکاونٹس کیس سے لا تعلقی کا اظہار کر دیا۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا ان کیسز سے میرا کوئی تعلق نہیں، سمجھ نہیں کہ مجھے ان کیسز میں کیوں شامل کیا گیا، جب پارک لین کمپنی قائم ہوئی تو میری عمر ایک سال تھی، کبھی کرپشن کی حمایت نہیں کی، نیب کو حقائق کو مد نظر رکھنا چاہیے، امید ہے نیب دوبارہ نہیں بلائے گا۔ نیب پیشی کے موقع پر آصفہ بھٹو بھی چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کے ہمراہ تھی، دونوں نے ہاتھ ہلا کر کارکنوں کے نعروں کا جواب دیا۔ سابق صدر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو 19 گاڑیوں کے قافلے میں نیب ہیڈکوارٹرز پہنچے۔ اس موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے۔بلاول بھٹو نے پیشی سے پہلے حبیب جالب کے اشعار میں اظہار کرتے ہوئے کہا میں بھی خائف نہیں تختہ دار سے، میں بھی منصور ہوں کہہ دو اغیار سے، کیوں ڈراتے ہو زنداں کی دیوار سے، ظلم کی بات کو جہل کی رات کو، میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا ۔ پی پی قیادت کی پیشی کے موقع پر اسلام آباد کا نادرا چوک میدان جنگ بن گیا، پیپلز پارٹی کارکنان اور پولیس میں ہاتھا پائی کے دوران 3 اہلکار زخمی جبکہ کئی جیالوں کو حراست میں لے لیا گیا۔ جیالوں کو نیب آفس جانے سے روکنے کی کوشش کی گئی تو پولیس اور کارکنوں میں ہاتھا پائی ہوئی، بپھرے افراد نے وفاقی وزیر کی گاڑی کو بھی روک لیا۔نیئر بخاری کا کہنا ہے سینکڑوں جیالوں کی گرفتاری حکومت کی بزدلی کا ثبوت ہے، قیدی وینز پر امن جیالوں سے بھرنا کہاں کا انصاف ہے؟ جیالے اپنی قیادت سے پرامن انداز میں اظہار یکجہتی کر رہے ہیں، حکومت اشتعال پھیلانے سے باز رہے۔ انہوں نے کہا کارکنان کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہیں، پولیس پر امن کارکنوں کی گرفتاری فوری بند کرے۔پیپلزپارٹی نے گرفتار جیالوں کو فوری طور پر رہا کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ سعید غنی کا کہنا ہے جیالوں پرتشدد کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے، پی ٹی آئی ایک تانگہ پارٹی ہے جو فوٹو شاپ سے جلسوں کی رونقیں بڑھاتی ہے، فواد چودھری آنکھیں کھول کر صرف جڑواں شہروں کے جیالوں کی طاقت دیکھیں، پورے ملک کے جیالے جمع ہوئے تو سلیکٹڈ حکومت کی بنیادیں ہلا دیں گے۔سید خورشید نے کہا ہے کہ سندھ اور اس کی عدالتوں پر اعتماد نہیں کیا جا رہا ہے، نیب کی آڑ میں انتشار اور گرفتاریوں کی کوشش کی جا رہی ہے، آئین اور قانون سب کے لیے ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود حکومت میں بیٹھے لوگوں کے خلاف کاروائی نہیں کی جا رہی ہے ، ہم چاہتے ہیں جہاں کا کیس وہاں چلنا چاہیے، ہمارے ساتھ راولپنڈی کی ایک تاریخ رہی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *