ملک میں پیسہ کم ہے تھوڑا صبر کریں، وزیراعظم عمران خان

قبائلی علاقوں پراتنا پیسہ خرچ کریں گےجو 70 سال میں نہیں ہوا: وزیراعظم

ملک میں تیزی سے تبدیلی کو ثابت کرکے دکھاؤں گا: وزیراعظم عمران خان

جنوبی وزیرستان: (پاکستان فوکس آن لائن)وزیراعظم عمران خان نے کہاہےکہ ملک چلانے کے لیے ابھی پیسا کم ہے لیکن عوام فکر نہ کریں اور بس تھوڑا سا صبر کرنا ہوگا انہیں تبدیلی نظر آنا شروع ہوجائے گی جب کہ ثابت کرکے دکھاؤں گا کہ تبدیلی بڑی تیزی سے آئے گی۔جنوبی وزیرستان کے علاقے سپین کئی راغزئی میں قبائلی عمائدین سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں قبائلیوں کی تاریخ جانتا ہوں اور ان کے سارے مسئلے سمجھتا ہوں، پہلے سربراہوں کو قبائلی علاقوں کا پتہ نہیں تھا، قبائلیوں نے ہمیشہ ملک کے لیے قربانی دی ہے لیکن قبائلی علاقہ سب سے پیچھے رہ گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ قبائلی علاقے پختونخوا میں ضم ہوجائیں گے، ہرسال ایک سو ارب روپے قبائلی علاقوں میں خرچ ہوگا، اتنا پیسا خرچ کیا جائے گا جو 70 سال میں نہیں ہوا، کمزور علاقوں کو اوپر اٹھانے تک ملک ترقی نہیں کرسکتا، قبائلی علاقوں کو ترقی، روزگار اور تعلیم چاہیے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ امریکا کےکہنے پر اپنی افواج قبائلی علاقوں میں نہ بھیجنے کےلیے سب سے زیادہ میں نے آواز اٹھائی، ہماری فوج نے قربانی دی ہے، جب قبائلی علاقوں میں تباہی مچی ہوئی تھی تب سے آپ کے لیے آواز اٹھارہا ہوں، نظریاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ قبائلی علاقوں کو پیچھے چھوڑا گیا، جب ریاست کمزور طبقے کو انصاف دیتی ہے اس ریاست کو پھر کوئی شکست نہیں دے سکتا۔عمران خان نے مزید کہا کہ اندرون سندھ، جنوبی پنجاب اور بلوچستان کے علاقے جو پیچھے رہ گئے ان کو آگے لائیں گے، ثابت کرکے دکھاؤں گا کہ تبدیلی بڑی تیزی سے آئے گی، ملک چلانے کے لیے ابھی پیسا کم ہے لیکن عوام فکر نہ کریں، پیسا آرہا ہے، بس تھوڑا سا صبر کرنا ہوگا، تبدیلی نظر آنا شروع ہوجائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ ساڑھے چار ہزار ارب روپے ٹیکس جمع ہوتا ہے جس میں سے 2 ہزار ارب روپے قرضوں کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے، رمضان میں فنڈ آنے شروع ہوں گے تو تبدیلی نظر آئے گی، اسپتالوں میں ڈاکٹرز اور عملہ تعینات ہوگا، نوجوانوں کوقرضہ دیں گے، تباہ حال گھروں کی تعمیر کے لیے فنڈ دیں گے۔وزیراعظم عمران خان نے قبائلی علاقوں میں صحت انصاف کارڈ دینے کا بھی اعلان کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *