اہلیہ کو ور غلاکر جنسی تعلق رکھنے والے شخص کے خلاف شوہر مقدمہ جیت گیا

امریکا کی ریاست شمالی کیرولینا کے ایک شخص نے اہلیہ کو ورغلاکر ان سے جنسی تعلقات استوار کرنے والے شخص کے خلاف قانونی جنگ جیت لی۔شمالی کیرولینا کے شخص نے سابق بیوی کے بوائے فرینڈ کے خلاف مقامی عدالت میں ’آئین‘ کے تحت مقدمہ کیا تھا، جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ایک شخص نے ان کی بیوی کو پہلے ورغلایا اور انہیں اچھی اچھی باتیں سناکر ان سے تعلقات استوار کرنے کے بعد انہیں مجھ سے طلاق دینے پر اکسایا۔
امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کے مطابق شمالی کیرولینا کے رہائشی کیون ہاورڈ نے اپنی سابق اہلیہ اور ان کے بوائے فرینڈ کے خلاف ’ایلئینیشن اینڈ افیکشن لا‘ کے تحت مقدمہ دائر کیا تھا۔عدالتی دستاویزات کے مطابق کیون ہاورڈ نے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ ان کی اہلیہ نے مذکورہ شخص سے تعلقات استوار کرنے کے بعد ان سے طلاق لی تھی۔متاثرہ شخص کا کہنا تھا کہ جب ان کی اہلیہ نے 12 سال شادی شدہ زندگی میں ان کے ساتھ رہنے کے بعد ان سے طلاق مانگی تو انہیں جھٹکا لگا اور انہیں بہت ہی تکلیف ہوئی۔کیون ہاورڈ کے مطابق جب اہلیہ نے ان سے طلاق مانگی تو انہوں نے ایک نجی جاسوس کی خدمات حاصل کیں اور پتہ لگوایا کہ ان کی اہلیہ کی جانب سے طلاق مانگنے کی کیا وجوہات ہیں۔کیون ہاورڈ کی جانب سے عدالت میں جمع کرائے گئے دستاویزات میں بتایا گیا کہ انہیں پتہ چلا کہ ان کی اہلیہ نے ایک غیر محرم شخص سے تعلقات استوار کرلیے تھے اور انہوں نے اپنے بوائے فرینڈ کی جانب سے ورغلائے جانے کے بعد ہی ان سے طلاق لی۔متاثرہ شخص نے عدالت میں جمع کرائی گئی اپنی درخواست میں یہ بھی لکھا تھا کہ ’زناکاری‘ یا کسی بھی شادی شدہ خاتون سے دوسرے مرد کے جنسی تعلقات جیسے معاملات فلموں اور کتابوں میں ہی اچھے لگتے ہیں، ایسے معاملات سے حقیقی زندگی متاثر ہوتی ہے۔

مقدمہ جیتنے والے خاتون کے سابق شوہر میڈیا کو تفصیل بتاتے ہوئے—اسکرین شاٹ

کیون ہاورڈ نے عدالت میں درخواست جمع کراتے وقت کہا تھا کہ وہ اہلیہ سے جنسی تعلقات استوار کرنے والے شخص سے پیسے وصول کرنے کی خاطر نہیں بلکہ اخلاقی طور پر مقدمہ دائر کر رہے ہیں۔کیون ہاورڈ کے مطابق وہ سماج کو پیغام دینا چاہتےہیں کہ بعض افراد کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات کی وجہ سے دوسری کی زندگی سخت متاثر ہوتی ہے۔رپورٹ کے مطابق عدالت نے کیون ہاورڈ کی درخواست پر کیس کی متعدد سماعتیں کیں اور اس کیس کی سماعت ایک خاتون جج کر رہی تھیں۔خاتون جج نے کیس کے دوران خاتون کے بوائے فرینڈ سے پوچھا تھا کہ ان پر خاتون کے سابق شوہر نے بیوی کو ورغلانے اور انہیں تعلقات پر مجبور کرکے طلاق دلوانے کا مقدمہ دائر کیا ہے تو ملزم ہنس پڑے تھے اور ایسے قانونی کو فرسودہ قرار دیا تھا۔رپورٹ کے مطابق خاتون جج نے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے خاتون کے سابق شوہر کے حق میں فیصلہ دیا۔عدالت نے خاتون کے بوائے فرینڈ کو حکم دیا کہ وہ خاتون کے سابق شوہر کو 7 لاکھ 50 ہزار ڈالر یعنی پاکستانی 9 کروڑ روپے تک ادا کرے۔عدالت کا کہنا تھا کہ یہ جرمانہ کسی کی بیوی کو ورغلانے، ان سے تعلقات رکھنے اور انہیں شوہر سے طلاق لینے پر مجبور کرنے کا جرمانہ نہیں بلکہ خاتون کے سابق شوہر کو پہنچنے والے نقصان کا جرمانہ ہے۔مذکورہ جج نے بعد ازاں میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے اپنے 31 سالہ کیریئر میں کم سے کم 30 ایسے کیسز کا فیصلہ سنایا ہے۔

خاتون جج کے مطابق انہوں نے ایسے ہی کیسز میں ایک کیس میں زیادہ سے زیادہ جرمانہ 59 لاکھ ڈالر جب کہ کم سے کم جرمانہ 60 ہزار ڈالر سنایا تھا۔واضح رہے کہ ’ایلئینیشن اینڈ افیکشن لا‘ شمالی کوریا سمیت امریکا کی 6 ریاستوں میں رائج ہے اور اس قانون کو جدید دور میں پرانا ترین قانون تصور کیا جاتا ہے۔یہ قانون شمالی کیرولینا کے علاوہ نیو میکسیکو، میسیسپی، ہوائی، جنوبی ڈکوٹا اور اٹاہ میں رائج ہے۔اس قانون کے تحت ہر وہ شوہر یا بیوی عدالت سے رجوع کر سکتا ہے جسے یہ شک ہو کہ ان کی بیوی یا شوہر کسی دوسرے شخص کے کہنے پر ان سے طلاق لے رہا ہے۔اس قانون کے تحت کوئی بھی شوہر یا بیوی کسی ایسی خاتون یا مرد کے خلاف بھی عدالت میں جا سکتا ہے جو ان کی شادی شدہ زندگی میں مسائل پیدا کر رہا ہو۔
عام طور پر اس قانون کے تحت بیویاں یا شوہر عدالتوں سے اس وقت رجوع کرتے ہیں جب انہیں اس بات کا علم ہو جاتا ہے کہ ان کی سابق بیوی یا سابق شوہر کسی دوسرے مرد یا دوسری خاتون کے ساتھ افیئر کی وجہ سے ان سے الگ ہوا۔اس قانون کے تحت سابق بیوی یا سابق شوہر نہیں بلکہ ان کے بوائے یا گرل فرینڈ کے خلاف مقدمہ کیا جا سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *