کشمیر کی ریاست کو یونین بنانا ذلت کے سوا کچھ نہیں، بھارتی مصنفہ

بھارتی مصنفہ نیروپاما سوبرمینم نے کہا ہے کہ بھارت میں بہت سے لوگ ایسا سمجھتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ حل ہوگیا لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر مقبوضہ وادی کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے اپنے پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ مودی سرکار کی آنکھوں سے جب جیت کے جشن کی دھند اترے گی تو ان کے سامنے اصل مشکلات آئیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 370 ختم ہونے سے کشمیریوں کے لیے ان کی شناخت اور حقوق کو چھینا گیا ہے، بی جی پی حکومت کا کشمیر کی ریاست کو یونین بنانا ذلت کے سوا کچھ نہیں ہے۔انہوں نے بتایا کہ مقبوضہ کشمیر میں ابھی تک عوام شاک کے عالم میں ہے، وہاں پرمواصلاتی نظام کی بندش سمیت کرفیو پانچویں ہفتے میں داخل ہوگیا ہے، کشمیریوں کو ایک دوسرے سے بات تک کرنے کی اجازت نہیں۔بھارتی مصنفہ نے کہا کہ پلواما گاوں میں 2 طالب علموں کا کہنا تھا کہ بھارت پر بھروسہ ختم ہوگیا جبکہ دوسرے گاوں میں لوگوں نے اپنے پیاروں کی قبریں دکھائیں۔انہوں نے بتایا کہ قابض فوج ہر رات 4 سے 5 بچوں کو اٹھا کے لے جارہی ہے اور ان سے رہائی پانے والے ایک بچے کے بازو تشدد کے باعث سوجے ہوئے تھے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ کچھ جگہوں پر دیہاتیوں نے درخت کاٹ کر سڑکوں پر رکاوٹیں بنائی ہیں تاکہ سیکیورٹی فورسز نہ آسکیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *