کرائسٹ چرچ حملہ: عدالت کا دہشتگرد کے دماغی معائنے کا حکم

برینٹن ٹیرنٹ کے خلاف آئندہ سماعت 14 جون کو ہوگی

کرائسٹ چرچ: (پاکستان فوکس آن لائن) نیوزی لینڈ کی عدالت کے جج نے کرائسٹ چرچ کی دو مساجد پر حملہ کرنے والے دہشت گرد کے خلاف ٹرائل سے قبل دماغی حالت کے 2 معائنوں کا حکم دے دیا۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق کرائسٹ چرچ ہائی کورٹ کے جج کیمروں مینڈر نے آسٹریلوی دہشت گرد کے خلاف سماعت کےدوران حکم جاری کیا تاکہ اس بات کا پتہ لگایا جاسکے کہ وہ قتل کے مقدمے کا سامنا کرسکتے ہیں یا نہیں۔برینٹن ٹیرنٹ آک لینڈ کی انتہائی حفاظتی جیل کے ایک چھوٹے کمرے سے بذریعہ ویڈیو لنک عدالت میں پیش ہوئے تھے۔جج کیمرون مینڈر کا کہنا تھا کہ دماغی صحت کا معائنہ ایسے کیس میں ایک عام سی بات ہے۔اس حوالے سے وکلا کا کہنا تھا کہ اسے مکمل ہونے میں 2 سے 3 ماہ کا وقت لگے گا۔جج کا کہنا تھا کہ برینٹن ٹیرنٹ پر 50 افراد کے قتل اور 39 افراد کے اقدام قتل کی فرد جرم عائد کردی گئی یے۔پولیس نے رواں ہفتے مزید الزامات عائد کرنے سے قبل ابتدائی طور پر قتل کی ایک فرد جرم عائد کی تھی۔دہشت گرد جب کرائسٹ چرچ کے کمرہ عدالت میں موجود بڑی اسکرین پر نمودار ہوا اس کے ہاتھوں میں ہتھکڑی لگی ہوئی تھی اور اس نے سرمئی رنگ کا سویٹر پہنا ہوا تھا۔کرائسٹ چرچ حملے کی دوسری سماعت میں کمرہ عدالت دہشت گرد حملے کے متاثرین اور ان کے اہلِ خانہ سے کھچاکھچ بھرا ہوا تھا، جن میں سے کچھ لوگ ہسپتال کے لباس میں وہیل چیئر پر موجود تھے۔برینٹن ٹیرنٹ نے سماعت کے دوران کسی جذبات کا مظاہرہ نہیں کیا، وہ کمرے کی طرف دیکھتا رہا یا سر ہلاتا رہا جیسے جو کچھ کہا جارہا ہے وہ اچھے سے سن رہا ہے۔جج نے بتایا کہ برینٹن ٹیرنٹ جج اور وکلا کو دیکھ سکتا ہے لیکن پبلک گیلری میں بیٹھے افراد کو نہیں دیکھ سکتا۔دہشت گرد نے سماعت میں صرف ایک مرتبہ بات کی جس میں اس نے جج کو تصدیق کی کہ وہ بیٹھ گیا ہے تاہم اس کی آواز سنائی نہیں دی کیونکہ آواز بند تھی۔ابتدائی طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ برینٹن ٹیرںٹ کے ویڈیو لنک کی آواز دانستہ طور پر بند کی گئی تھی یا غلطی سے ہوئی۔سماعت کے دوران کمرہ عدالت میں 2 درجن سے زائد رپورٹرز اور تقریبا 60 موجود تھے، سماعت سے قبل کورٹ رجسٹرار نے لوگوں کو عربی اور انگریزی میں خوش آمدید کہا، اس دوران وہاں موجود بعض افراد جذباتی ہوکر رو پڑے۔خیال رہے کہ برینٹن ٹیرنٹ نے اپنے وکیل کو برطرف کردیا تھا کہ وہ بذات خود اپنی نمائندگی کرنا چاہتا ہے،لیکن اب اس نے اپنی نمائندگی کے لیے آک لینڈ کے 2 وکلا شین ٹیٹ اور جوناتھن ہڈسن کو منتخب کیا ہے۔ برینٹن ٹیرنٹ کے خلاف آئندہ سماعت 14 جون کو ہوگی جس میں ان کی ذہنی حالت کی تشخیص کے نتائج کا جائزہ لیا جائے گا کہ اسے اپیل دائر کرنےکی ضرورت ہے یا نہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *