پی سی بی نے پی ایس ایل 5 کے تمام میچز پاکستان میں کرانے کا عزم کرلیا

لاہور: (پاکستان فوکس آن لائن)پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے پانچویں ایڈیشن کے تمام میچز پاکستان میں کرانے کا عزم کرلیا ہے۔
پی ایس ایل فائیو کے میچز کراچی، لاہور، ملتان اور راولپنڈی میں ہوں گے۔ لاہور میں پی سی بی چیئرمین احسان مانی نے فرنچائز مالکان کو کھانے پر مدعو کیا اور اس موقع پر پی سی بی اور فرنچائز مالکان کے درمیان پی ایس ایل کے معاملات کے حوالے سے تفصیلی بات چیت ہوئی۔ملاقات میں طے ہوا کہ پی ایس ایل فائیو کرانے کیلئے پی سی بی اور تمام فرنچائزز ایک پیج پرہیں۔ پی ایس ایل کے میچز پاکستان میں کرانے کیلئے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ جن غیر ملکی کھلاڑیوں کو پاکستان آنے میں تحفظات ہیں انہیں مل کر دور کیا جائے گا۔اس حوالے سے انڈی پینڈنٹ کنسلٹنٹ کی بھی خدمات حاصل کرنے کی تجویز سامنے آئی۔ انڈی پینڈنٹ کنسلٹنٹ ایک معروف بین الاقوامی شخصیت ہو جو کھلاڑیوں کے خدشات دور کرکے انہیں پاکستان آنے کیلئے آمادہ کرے۔
پی ایس ایل کے میچز فی الحال چار وینیوز لاہور، کراچی، ملتان اور راولپنڈی میں ہی ہوں گے۔ افتتاحی تقریب کراچی جبکہ فائنل لاہور میں کرانے کی تجویز ہے۔ڈرافٹ کے مطابق 13 میچز لاہور، 9 میچز کراچی ، 8 میچز راولپنڈی اور 4 میچز ملتان میں کرانے کی تجویز ہے۔ملاقات میں پی ایس ایل سے متعلق معاملات کے حل کیلئے ورکنگ کمیٹی بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ کمیٹی میں تمام 6 فرنچائزز کے نمائندے شامل ہوں گے۔ کمیٹی کی سربراہی ایم ڈی پی سی بی وسیم خان کریں گے۔کمیٹی میں بورڈ کے عہدیداران بھی شامل ہوں گے۔ ورکنگ کمیٹی ایک ماہ کے اندر پی ایس ایل فرنچائز کے تحفظات اور مطالبات پر بات چیت کرے گی اور تجاویز اور سفارشات کو حتمی شکل دی جائے گی۔ حتمی فیصلے گورننگ کونسل ہی کرے گی ۔ملاقات میں پی ایس ایل کی الگ شناخت کے حوالے سے بھی بات چیت کی گئی۔

پی ایس ایل پلیئرزکی کیٹیگریز بنائے بغیر نیلامی کا امکان
دوسری جانب نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پی ایس ایل پلیئرز کی کیٹیگریز بنائے بغیر نیلامی کاامکان بڑھ گیا جب کہ غیرملکی کرکٹرز کو پاکستان آنے پر قائل کرنے کیلیے جائلز کلارک، ہارون لورگاٹ اور ڈیرن سیمی جیسی شخصیات کو سفیر بنانے کی تجویز بھی زیرغورہے۔چیئرمین پی سی بی احسان مانی اور فرنچائز مالکان کی میٹنگ پیر کو لاہور میں ہوئی تھی، ذرائع سے حاصل شدہ مزید معلومات کے مطابق اس موقع پرپلیئرز فیس ماڈل پر نظرثانی کی تجویز بھی زیرغور آئی۔فرنچائززکے مطابق دیگر لیگز کے مقابلے میں پی ایس ایل کا معاوضہ بہت زیادہ ہے، اس وقت پلیئرز بجٹ1.4 ملین ڈالر ہے جسے کم کرنا چاہیے، یہی کھلاڑی دیگر لیگز میں اس سے بہت کم رقم کے عوض کھیلتے ہیں، اس پر یہ کہا گیا کہ کوئی ایسا آپشن سوچنا چاہیے جس سے پلیئرز ناراض بھی نہ ہوں۔ایک تجویز یہ سامنے آئی کہ کیٹیگریز طے کیے بغیر نیلامی کرائی جائے، چاہے فرنچائززایک مہنگا اور باقی سستے پلیئرز لیں یا کچھ اور کریں یہ ان کی مرضی ہوگی۔ میٹنگ میں پی ایس ایل کیلیے سفیر بھی بنانے پر بات ہوئی۔
اس حوالے سے جائلز کلارک، ہارون لورگاٹ اور ڈیرن سیمی جیسی پاکستان دوست شخصیات کے نام سامنے آئے، انھیں باقاعدہ معاوضہ دینے کی بات ہوئی تاکہ وہ غیرملکی کرکٹرز کے خدشات دور کرتے ہوئے انھیں پاکستان آنے پر آمادہ کر سکیں، اس وقت یہ کام پی سی بی ملازمین پلیئرز ایجنٹ کی مدد سے کرتے ہیں مگر انھیں خاطر خواہ کامیابی نہیں مل پاتی، اس تجویز پر بھی عمل درآمد کی یقین دہانی کرائی گئی۔دوسری جانب ڈالرز کے بجائے روپے میں ادائیگی اور معاوضوں میں متوقع کمی پرپاکستانی کھلاڑیوں کی جانب سے بھرپور اعتراض سامنے آنے کا امکان ہے، اسی لیے بورڈ کو اس حوالے سے سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا پڑے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *