وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ مضحکہ خیز ہے: پرویز خٹک

فضل الرحمن اپنا ایجنڈا بتائیں اس کے بعد بیٹھ کر بات ہوگی: پرویز خٹک

اسلام آباد: (پاکستان فوکس آن لائن)پرویز خٹک نے کہا ہے کہ فضل الرحمن اپنا ایجنڈا بتائیں اس کے بعد بیٹھ کر بات ہوگی، کچھ مشترکہ دوستوں کے ذریعے پیغام بھجوایا ہے، تمام اپوزیشن جماعتوں سے رابطے کریں گے، وزیراعظم کے استعفے کی بات مضحکہ خیز ہے۔وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا ہے کہ اپوزیشن سے رابطہ شروع کردیا جلد مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک نے اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن سے رابطہ شروع کردیا ہے جلد مثبت نتائج آئیں گے، احتجاج کا حصہ بننے والی تمام جماعتوں سے رابطہ کریں گے۔
وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اپوزیشن سے مذاکرات کے لیے بنائی گئی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ مضحکہ خیز ہے، اس پر بات نہیں ہو سکتی۔اسلام آباد میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ کچھ مشترکہ دوستوں کے ذریعے مولانا فضل الرحمان کو پیغام بھجوایا ہے۔پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ کمیٹی تمام اپوزیشن جماعتوں سے رابطے کرے گی لیکن کمیٹی کے نام ابھی فائنل نہیں ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سیاست میں بات چیت کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں لیکن وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ مضحکہ خیز ہے، اس پر بات نہیں ہو سکتی۔
ان کا کہنا تھا کہ مولانا صاحب اپنا ایجنڈا بتائیں اس کے بعد بیٹھ کر بات ہو گی، کوشش ہے موجودہ صورتحال کے پیش نظر کسی سیاسی انتشار سے بچا جائے۔وزیر دفاع نے کہا کہ ملک دشمن عناصر سیاسی انتشار سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، پٹھان جرگے والے لوگ ہیں اور پورا یقین ہے کہ مولانا صاحب ہمارے ساتھ بیٹھیں گے۔ایک سوال کے جواب میں پرویز خٹک نے کہا کہ میں طاقت کے استعمال کے حق میں نہیں ہوں لیکن ایسا نہیں ہو سکتا کہ کوئی بھی بغیر کسی ایشو کے چڑھائی کر دے۔پرویز خٹک نے کہا کہ میرے خلاف طاقت استعمال کی گئی تھی جس کا اچھا نتیجہ نہیں نکلا، پوری کوشش ہو گی 27 اکتوبر سے پہلے معاملات حل ہو جائیں۔
ان کا کہنا ہے کہ امن و امان کے حوالے سے ذمہ داری وزارت داخلہ کی ہے۔خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اپوزیشن سے مذاکرات کے لیے کمیٹی بنانے کا اعلان کیا تھا جس کا سربراہ انہوں نے پرویز خٹک کو بنایا تھا۔حکومتی کمیٹی مولانا فضل الرحمان سے آزادی مارچ اور دھرنے کے حوالے سے مذاکرات کرے گی جب کہ مولانا فضل الرحمان کا دو ٹوک مؤقف ہے کہ اگر کسی نے مذکرات کے لیے آنا ہے تو وزیراعظم کا استعفیٰ ساتھ لیکر آئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *