پاکستان کو سی پیک سے متعلق چین سے سخت سوالات کرنے ہوں گے، امریکا

واشنگٹن: (پاکستان فوکس آن لائن) امریکا نے پاکستان کو خبردار کیا ہے کہ چین مختلف ممالک کو ایسے معاہدے کرنے پر مجبور کررہا ہے جو ان کے مفاد میں نہیں۔امریکی نائب معاون وزیرخارجہ ایلس ویلز کا کہنا ہے کہ چین مختلف ممالک کو ایسے معاہدے کرنے پر مجبور کررہا ہے جو ان کےمفاد میں نہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو چین سے چائنا پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے کی شفافیت سمیت سخت سوالات کرنے ہوں گے۔ایلس ویلز نے مزید کہا کہ اگر چین اس بڑے منصوبے کو جاری رکھتا ہے تو اس سے پاکستان کی معیشت کو طویل مدتی نقصانات ہوں گے کیوں کہ اس منصوبے سے پاکستان کو کم چین کو زیادہ فائدہ ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ سی پیک سے صرف بیجنگ کو فائدہ ہوگا، امریکا نے پاکستان کو اس سے بہتر ماڈل کی پیشکش کی تھی۔
دوسری جانب پاک چائنا انسٹیٹیوٹ کے 5 ویں میڈیا فورم سے خطاب کرتے ہوئے کیا پاکستان میں تعینات چینی سفیر یاؤ جنگ نے امریکی بیان کو مسترد کردیا۔انہوں نے کہا کہ سی پیک کے دوسرے مرحلے میں صنعتی زونز کے قیام، تعلیم اور زراعت سمیت دیگر شعبوں پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔چینی سفیر نے کہا کہ پہلے مرحلے میں میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی اورتوانائی سمیت شاہراہوں کی تعمیر پر توجہ دی گئی۔ دونوں ممالک کے تعاون سے یہ منصوبہ کامیابی کے راستے پر گامزن ہے۔انہوں نے کہا کہ سی پیک کے تحت چینی اور پاکستانی حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ دونوں ممالک خصوصی طور پر اقتصادی تعاون کو فروغ دیں گے، سی پیک کا مقصد پاکستان کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔
یاؤ جنگ نے کہا کہ امریکی محکمہ خارجہ کی اعلیٰ افسر ایلس ویلز کے بجلی ٹیرف کے زیادہ ہونے کے بیان کو سن کر حیرت ہوئی، سی پیک کے بارے میں کرپشن کی بات کرنا آسان ہے جب آپ کے پاس درست معلومات نہ ہوں، سی پیک کے منصوبوں کے حوالے سے کوئی کرپشن سامنے نہیں آئی۔انہوں نے کہاکہ تمام منصوبوں میں مکمل شفافیت پائی گئی، ایلس ویلز نے ایم ایل ون پر بھی بات کی، ایم ایل ون ریلوے منصوبہ کی لاگت 9 ارب ڈالر ہے، یہ صرف ایک تخمینہ ہے، امریکی محکمہ خارجہ کے اعلیٰ حکام کو ایم ایل ون کے تخمینے پر بات نہیں کرنی چاہیے تھی، یہ ان کے دفتر کے آداب کے خلاف ہے۔انہوں نے کہا کہ سی پیک نے پاکستان میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں، جاری 20 منصوبوں میں 75ہزار سے زائد پاکستانیوں کو روزگار فراہم کیا ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈ اور سی پیک مشترکہ فائدے کا منصوبہ ہے، 170 ممالک اس کا حصہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ یقین دہانی کراتا ہوں کہ سی پیک چین کی حکومت کی اولین ترجیح ہے، میڈیا حقیقت دیکھے، اس کے فوائد دیکھے اور منفی پراپیگنڈے کو نظر انداز کرے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *