باپ اور بیٹی کے موت کی آخری تصاویر نے دنیا کو جھنجوڑ دیا

میکسیکو سٹی: (پاکستان فوکس آن لائن)اچھے مستقبل کے خواب سجائے غیر قانونی طور پر امریکا جانے والا خاندان دریا میں ڈوب گیا، 24 سالہ باپ اور کم سن بیٹی کی ایک دوسرے سے لپٹی لاش کی تصویر نے سب کے دل دہلا دیئے۔
چار سال قبل ستمبر 2015 میں ترکی کے ساحل سمندر پر شامی معصوم بچے ایلان کردی کی لاش کی تصویر نے دنیا کے ضمیر کو جھنجوڑ تھا اور بڑے پیمانے پر شامی مہاجرین کی باتیں ہونے لگی تھیں۔معصوم ایلان کردی کو محفوظ زندگی کی تلاش میں ساحل سمندر پر مردہ دیکھ کر جہاں دنیا کے کروڑوں حساس افراد کو اپنے بچے یاد آنے لگے تھے، وہیں عام افراد نے شامی افراد کے محفوظ مستقبل کا مطالبہ بھی کیا تھا۔

اور اب ایک بار پھر دنیا کے کروڑوں افراد کو ایک اور تصویر نے جھنجوڑ کر رکھ دیا۔اس بار دنیا کے ضمیر کو جھنجوڑے والی تصویر شامی، لبیائی، یمنی اور افغانی مہاجرین کی نہیں بلکہ وسطی امریکا کے ملک ایل سلواڈور کے مہاجر والد اور بیٹی کی ہے۔
ایل سلواڈور کا مجبور 25 سالہ والد اپنی 2 سالہ بچی کے ساتھ اپنی زندگی محفوظ بنانے کے لیے میکسیکو کے راستے امریکا میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران سرحد پر پانی کی لہروں میں چل بسا۔بین الاقوامی خبررساں ادارے کے مطابق ایل سلواڈور کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ امریکا میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران پانی کی لہروں میں بہ کر زندگی کی بازی ہارنے والے باپ اور بیٹی ایل سلواڈور کے ہی شہری ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکا- میکسیکو سرحد پر پانی کی لہروں میں امریکی ریاست ٹیکساس میں داخل ہونے والے دریاء میں ڈوب کر جاں بحق ہوئے۔دنیا کو جھنجوڑ دینے والا یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب ایل سلواڈور کے 25 سالہ آسکر البرٹو میکسیکو سے ہوتے ہوئے امریکی سرحد کے قریب دریاء کنارے پہنچے اور بچی کو وہاں کھڑا کرکے اپنی اہلیہ کو لے جانے کے لیے واپس جانے لگے تو بچی نے دریاء میں چھلانگ لگا لی۔بچی کی جانب سے چھلانگ لگائے جانے کے بعد اہلیہ کو لے جانے والے آسکر البرٹو تیزی سے واپس لوٹے اور بچی کو بچانے کے لیے انہوں نے دریاء میں چھلانگ لگادی، جہاں پانی کی تیز لہروں نے دونوں باپ اور بیٹیوں کو زندگی سے آزاد کردیا۔
پانی کی تیز لہریں باپ اور بیٹی کو ساحل پر لے آئیں، جہاں میکسیکو کی خاتون فوٹوگرافرجولیا لی ڈوس نے ان کی دردناک تصویر کیمرے میں قید کرلی۔دنیا کے ضمیر کو جھنجوڑ والی تصویر میں بیٹی کے چہرے اور سر کو والد کی ٹی شرٹ کے اندر دیکھا جا سکتا ہے، جب کہ بچی کے ایک ہاتھ کو والد کی گردن میں دیکھا جا سکتا ہے۔مرنے کے بعد بھی والد اور بیٹی کے اس قدر پیار کی دردناک تصویر نے جہاں دنیا کے ضمیر کو جھنجوڑا ہے، وہیں ایک بار پھر لوگ مہاجرین کے محفوظ مستقبل کی باتیں کرنے لگے ہیں۔ساتھ ہی لوگوں نے امریکا-میکسیکو سرحد پر پھنسے ہوئے ہزاروں مہاجرین کو محفوظ راستہ دیے جانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *