بیلجئیم میں پہلی مرتبہ خاتون وزیراعظم مقرر

یورپی ملک بیلجئیم کی 189 سالہ جمہوری تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک خاتون کو وزیر اعظم کے عہدے پر تعینات کردیا گیا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ پہلی مرتبہ حکومت کے اعلیٰ ترین عہدے پر تعینات کی جانے والی خاتون عوامی ووٹوں سے منتخب ہوکر عہدے پر براجمان نہیں ہوئیں بلکہ انہیں بیلجئیم کے بادشاہ نے اس عہدے پر تعینات کیا ہے۔
بیلجئیم میں گزشتہ برس دسمبر سے کوئی بھی منتخب حکومت نہیں اور رواں برس مئی میں ہونے والے انتخابات میں کسی بھی سیاسی جماعت نے حکومت بنانے کے لیے مطلوب نشستیں حاصل نہیں کی تھیں۔
مئی 2019 میں ہونے والے انتخابات میں کسی بھی جماعت کے پاس واضح اکثریت نہ ہونے اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے متحد حکومت بنانے کی کوششیں ناکام ہونے کے بعد اب بادشاہ نے 44 سالہ صوفی ولیمز کو ملک کی پہلی خاتون وزیر اعظم تعینات کردیا۔برطانوی اخبار ’دی انڈیپنڈنٹ‘ کے مطابق صوفی ولیمز سابق نگراں وزیر اعظم چارلز مشیل کی جگہ لیں گی۔
43 سالہ چارلز مشیل یورپی یونین کے صدر منتخب ہوئے ہیں اور وہ جلد ہی اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔حیران کن بات یہ ہے کہ دسمبر 2018 سے قبل چارلز مشیل بیلجئیم کے منتخب وزیر اعظم تھے، تاہم انہوں نے یکم دسمبر 2018 کو تارکین وطن سے متعلق معاملات پر کشیدگی بڑھ جانے کے بعد استعفیٰ دے دیا تھا۔چارلز مشیل 4 سیاسی جماعتوں کے اتحاد سے بننے والی حکومت کے تحت وزیر اعظم منتخب ہوئے تھے، تاہم بیلجئیم کے بادشاہ نے انہیں نئے وزیر اعظم کے آنے تک اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کا حکم دیا تھا۔ مئی 2019 کے انتخابات کے حوالے سے خیال کیا جا رہا تھا کہ کوئی نہ کوئی سیاسی جماعت برتری لے کر حکومت بنانے کی پوزیشن میں آ جائے گی یا پھر پارٹیاں ایک بار پھر اتحادی حکومت بنائیں گی۔تاہم انتخابی نتائج میں ایک دوسرے کی انتہائی حریف جماعتوں نے برتری حاصل کی تھی جس وجہ سے اتحادی حکومت بھی نہیں بنائی جا سکی اور بادشاہ نے چارلز مشیل کو ہی وزیر اعظم کی ذمہ داریاں برقرار رکھنے کا حکم دیا تھا۔اہم اب وہ یورپی یونین کے صدر منتخب ہونے کے بعد اپنے عہدے سے سبکدوش ہوگئے، جس کے بعد بیلجئیم کے بادشاہ نے 44 سالہ سابق وزیر اور قدرے سیکولر سیاستدان خاتون کو وزیر اعظم مقرر کردیا۔
انڈیپینڈنٹ کے مطابق 44 سالہ صوفی ولیمز نے مقامی حکومت کے عہدوں سے اپنی سیاست کا آغاز کیا اور وہ جہاں ڈچ زبان کے افراد میں مقبول ہیں، وہیں وہ فرینچ زبان بولنے والے جرمن افراد میں بھی مقبول ہیں۔بیلجئیم میں ڈچ اور فرینچ زبان بولنے والے افراد رہتے ہیں اور دونوں کی مختلف زبان بولنے والی قومیتوں کے اپنے اپنے سیاسی مفادات ہوتے ہیں۔ایسے ہی معاملات کی وجہ سے مئی 2019 میں ہونے والے انتخابات کے بعد کسی جماعت نے اتحادی حکومت نہیں بنائی اور گزشتہ 11 ماہ سے وہاں نگراں حکومت چل رہی ہیں۔اس سے قبل 2010 سے 2011 کے آخر تک 540 دن تک بیلجئیم میں نگراں حکومت چلتی رہی تھی۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *