اسٹیل ملز کی بحالی کیلئے نجی شراکت داری ضروری ہے،حماد اظہر

پاکستان اسٹیل ملز ملازمین کو اوسطاً 23 لاکھ روپے دیئے جائیں گے،وفاقی وزیر

وفاقی وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر نے کہا ہے کہ پاکستان اسٹیل ملز 230 ارب روپے قرض اورنقصان میں ہے ۔ اسٹیل ملز ملازمین کو اوسطاً 23 لاکھ روپے دیئے جائیں گے۔
وفاقی وزیرحماد اظہر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اسٹیل ملز کا مسئلہ ایک دہائی سے چلا آرہا ہے، پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے دور میں اسٹیل ملز خسارے میں گئی، گزشتہ ساڑھے 5 سال سے اسٹیل ملز بند پڑی ہے، جب سے یہ مل بند ہے حکومت نے گزشتہ ساڑھے 5 سال میں 55 ارب روپے اس مل کے ملازمین کو تنخواہیں دینے میں لگایا ہے جبکہ ماہانہ 70 کروڑ حکومت اسٹیل ملز ملازمین کی تنخواہوں، نقصانات اور سود کی مد میں ادا کرتی ہے، دیکھنا ہوگاا سٹیل ملز کا کیا مسقبل ہے۔
حماد اظہرنے مزید کہا کہ ملز بند ہونے سے اس کے ملازمین کا کوئی قصور نہیں، پاکستان اسٹیل ملز 230 ارب روپے کے قرضے اور نقصان میں ہے، پاکستان اسٹیل ملز کی نجکاری میں 15 کے قریب پارٹیز دلچسپی رکھتی ہیں،ا سٹیل ملز کی بحالی کیلئے نجی سیکٹر کی شراکت شامل کر رہے ہیں۔7سے18ہزار ایکڑ پاکستان سٹیل مل کی ملکیت میں رہے گا ۔
وفاقی وزیرحماد اظہرنے مزید کہا کہ مخالف جماعتیں پاکستان سٹیل ملز پر پوائنٹ سکورننگ کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جو ای سی سی نے پرپوزل منظور کیا ہے اسے کابینہ میں پیش کیا جائے گا، 2015 سے حکومت تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے 35 ارب روپے ادارے کو دے چکی ہے۔ آپ کو بروقت آگاہ کرتے رہیں گے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے قوم سے بوجھ کو ہٹانا ہے اور ملز کو دبارہ چلانا ہے تو ہمیں یہ فیصلے کرنے پڑیں گے ۔ تحریک انصاف کی حکومت پاکستان کے تمام مسائل کوحل کرنا چاہتی ہے اور ہم اپنی قوت بھی دکھائیں گے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *