آزادی مارچ: اپوزیشن جماعتوں کا حکومت پر مزید دباؤ بڑھانے کا فیصلہ

اسلام آباد: (پاکستان فوکس آن لائن) رہبر کمیٹی کے سربراہ اکرم خان درانی نے کہا ہے کہ آزادی مارچ جاری رکھنے پر تمام جماعتیں متفق ہیں۔ دو دن بعد آزادی مارچ نیا رخ اختیار کرے گا۔
دیگر اپوزیشن رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اکرم درانی نے کہا کہ ہم وزیراعظم عمران خان کے استعفے پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ رہبر کمیٹی کو اعتماد میں لیے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کریں گے، جو بھی فیصلہ ہوگا رہبر کمیٹی ہی کرے گی۔ ایک استعفیٰ چاہتے ہیں، وہ ہو گیا تو سمجھو سب کچھ ہوگیا۔اکرم خان درانی کا کہنا تھا کہ ایسی تجاویز ہونگی کہ میڈیا ہم سے زیادہ خوش ہوگا۔ ابھی سب کچھ نہیں بتا سکتے، کچھ پتے اپنے پاس رکھیں گے۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر نے کہا کہ حکومت پر مزید دباؤ بڑھانے کا فیصلہ ہو گیا ہے۔ حکومت پر دباؤ کو کیسے بڑھایا جائے گا؟ ابھی تجاویز نہیں بتا سکتے۔اکرم درانی نے تسلیم کیا کہ ان کی جماعت اسلام آباد میں بارش کے دوران مناسب انتظامات نہیں کر سکی، اس کے باوجود آزادی مارچ کے شرکا نے کہا ہے کہ وہ ایک ماہ تک بھوکا بھی رہ سکتے ہیں۔

رہبر کمیٹی کیساتھ ڈیڈلاک وزیراعظم کے استعفیٰ اور جلد الیکشن پر ہے: پرویز خٹک
دوسری جانب حکومتی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک نے کہا ہے کہ ایسا ڈیڈ لاک نہیں کہ بات چیت ہی ختم ہے۔ ہماری ٹیم تمام پارٹیوں کے سربراہوں سے رابطے میں ہے۔ ملاقاتوں کا انشا اللہ نتیجہ ضرور نکلے گا۔
میڈٰیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ اگر دھاندلی ہوئی ہے تو ثبوت دیں، بات آگے چلے گی۔ بغیر ثبوت کے آپ یہ نہیں کہہ سکتے کے وزیراعظم استعفی دیں۔ اس سے تو ایسا رواج بن جائیگا کہ ملک میں جمہوریت نہیں رہے گی۔ تحریک عدم اعتماد جب چاہیں لائیں۔اپوزیشن کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ جاری ہے، تاہم ایسا لگ رہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان 12 نومبر تک احتجاج جاری رکھیں گے۔ ہمارا شہباز شریف اور دیگر افراد کے ساتھ رابطہ ہے۔ پرویز الہیٰ صرف بات کررہے ہیں، فیصلہ انہوں نے نہیں کمیٹی نے کرنا ہے۔دوسری جانب مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے بعد پرویز الہیٰ کا میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ سب پرامید ہیں، چیزیں بہتری کی طرف جا رہی ہیں۔ بہت ساری تجاویز دی ہیں، امید ہے جلد نتیجہ نکلے گا اور خوشخبری آئے گی۔
ایک صحافی کے اس سوال پر کہ کیا مولانا فضل الرحمن وزیراعظم کے استعفیٰ کے مطالبہ سے پیچھے ہٹ گئے ہیں؟ اور کیا انھیں جوڈیشل کمیشن پر تیار کر لیا گیا ہے؟ پرویز الہیٰ نے کہا کہ جلد اچھی خبریں دینگے۔ مولانا جس بات پر راضی ہونگے، وہی بات ہوگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *