برطانیہ میں غیرملکی طلبہ کو تعلیم مکمل کرنے کے بعد دو سال تک ملازمت کی اجازت

اسٹوڈنٹ ویزے آئے طلبا گریجویشن کے بعد دو سال مزید قیام کر سکیں گے

لندن: (پاکستان فوکس آن لائن)برطانوی حکومت نے سٹوڈنٹ ویزا رولز میں ترمیم کرتے ہوئے غیر ملکی طلبہ کو گریجوایشن مکمل کرنے کے بعد دو سال تک برطانیہ میں قیام کرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔اس عرصہ کے دوران غیر ملکی طلبہ برطانیہ میں ملازمت تلاش کرسکیں گے۔ یہ فیصلہ وزارت داخلہ کی تجویز پر کیا گیا ہے۔
قبل ازیں سابق وزیراعظم تریسامے نے جب وہ 2012 میں ہوم سیکریٹری تھیں اس وقت انہوں نے انٹرنیشنل طالب علموں کے تعلیم مکمل کرنے کے بعد برطانیہ میں کام کرنے پر پابندی لگا دی تھی اور غیر ملکی طلبہ کو تعلیم مکمل کرنے کے بعد 4 ماہ کے اندر ملک چھوڑنے کا حکم نامہ جاری ہوا تھا۔
برطانوی نشریاتی ادارےکے مطابق برطانوی وزارتِ خارجہ کی جانب سے اعلان کردہ نئی تجاویز کے تحت سٹوڈنٹ ویزے پر آئے والے غیر ملکی طلبا کو گریجویشن مکمل کرنے کے بعد دو سال تک برطانیہ میں رہنے کی اجازت ہو گی۔اس نئی تجویز کا مقصد برطانوی تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل غیر ملکی طلبا کو نوکری تلاش کرنے میں معاونت فراہم کرنا ہے۔اس نئے اعلان کے بعد سنہ 2012 کا وہ فیصلہ کالعدم ہو گیا ہے جو سابقہ ہوم سیکریٹری ٹریزامے (جو بعد ازاں برطانیہ کی وزیرِ اعظم کے عہدے پر بھی فائز رہی ہیں) نے کیا تھا جس میں ڈگری کے مکمل ہونے کے چار ماہ کے اندر غیر ملکی طلبا کے لیے برطانیہ چھوڑنا لازمی تھا۔
وزیراعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ اس تبدیلی سے غیر ملکی طلبا اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے مستقبل کی شروعات بہتر انداز میں کرنے کے قابل ہو سکیں گے۔
دوسری جانب مائیگریشن واچ نامی ادارے کا کہنا ہے کہ یہ تجویز اپنی پرانی پوزیشن پر واپس چلے جانے کے مترادف ہے۔اس تبدیلی کا اطلاق برطانیہ میں موجود غیر ملکی طلبا پر ہو گا۔ گذشتہ برس برطانیہ میں زیرِ تعلیم غیر ملکی طلبا کی تعداد ساڑھے چار لاکھ کے لگ بھگ تھی۔فی الحال غیر ملکی طلبا کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایک ایسے تعلیمی ادارے میں تعلیم حاصل کریں جو امیگریشن سے متعلق مکمل ریکارڈ رکھتا ہو۔نئی تجاویز کے مطابق غیر ملکی طلبا کس قسم کی اور کتنی نوکریاں کریں گے اس پر بھی کوئی پابندی نہیں ہو گی۔بی بی سی ہوم ایڈیٹر مارک ایسٹن کے مطابق اگر کوئی امیگریشن سے متعلق نئی حکومتی اپروچ کو جاننا چاہتا ہے تو یہ تجاویز اس کی سب سے بہتر عکاس ہیں۔

وہ طلبا جو نئی پالیسی سے مستفید نہیں ہو سکیں گے
انڈیا سے برطانیہ میں تعلیم کی غرض سے مقیم شریا سوامے کا کہنا ہے کہ یہ تجویز مستقبل کی جانب ایک زبردست قدم ہے لیکن ان کے لیے یہ ایک افسوسناک دن بھی ہے کیونکہ جو طالبِ علم پہلے ہی برطانیہ میں ہیں انھیں اِس سے فائدہ نہیں ہو گا۔
شریا سوامی نے برطانیہ کے علاقے کینٹ یونیورسٹی آف کریٹیو آرٹس سے حال ہی میں اپنی ماسٹرز کی ڈگری مکمل کی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ انھیں تعلیم مکمل کرنے کے بعد صرف چار مہینے والے قانون کی وجہ سے سخت مشکل کا سامنا ہے۔وہ کہتی ہیں کہ بین الاقوامی گریجویٹس کے لیے نوکریاں نہ ہونے کے برابر ہیں کیونکہ اُن کے پاس کام کا تجربہ نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ ’میں گذشتہ چند ماہ کی اپنے مستقبل کا راستہ تلاش کرنے کی تگ و دو میں مصروف ہوں کیونکہ برطانیہ میں رہنا اور مستقبل تلاش کرنا عملی طور پر ناممکن لگتا ہے۔‘’میں مایوس ہوں اور اس دن کو کوستی ہوں جب میں یہاں حصول تعلیم کے لیے آئی کیونکہ اب مجھے اپنے ملک واپس جانا ہو گا اور میرے پاس مہنگی فیس کی ادائیگی کے بعد حاصل کی جانے والی ڈگری کا ایک کاغذ ہو گا۔‘شریا سوامی کہتی ہیں کہ برطانیہ میں غیر ملکی طلبا کے لیے ملازمت کے مواقع ’نہ ہونے کے برابر‘ ہیں اور اس کی وجہ گریجویشن کے بعد تجربے کی کمی ہے۔
ملا جلا رد عمل
چانسلر ساجد جاوید نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ یہ اقدام بروقت ہے اور حکومت کو اس بیوقوفانہ پالیسی (پرانی پالیسی) کو برسوں پہلے ہی ختم کر دینا چاہیے تھا۔یونیورسٹیز کے سابق وزیر جو جانسن نے، جو اپنے بھائی کی حکومت سے گذشتہ ہفتے ہی الگ ہوئے ہیں، ٹویٹر پیغام میں لکھا کہ مختلف جماعتوں کی مہم میں شمولیت کے بعد آخر کار کامیابی ملی گئی۔برطانیہ میں یونیورسٹیز کے چیف ایگزیکٹیو ایلسٹیر جاروس نے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے برطانیہ کی معیشت کو فائدہ پہنچے گا اور یہ برطانیہ کو حصول تعلیم کے لیے ’پہلی پسند‘ کی پرانی حیثیت کو بحال کر ے گا۔انھوں نے کہا کہ ‘سماجی سطح پر غیر ملکی طلبا کی موجودگی ایک مثبت تبدیلی لاتی ہے اور اس کا برطانیہ کی معیشت میں 26 بلین پاؤنڈ کا حصہ ہے۔ لیکن بہت طویل عرصے تک تعلیم کے بعد کام کے مواقع نہ ملنے سے غیر ملکی طلبا کو برطانیہ میں راغب کرنے میں مسابقتی سطح پر نقصان ہوا ہے۔لیکن مائیگریشن واچ سے وابستہ ایلپ میمٹ کا کہنا ہے کہ فیصلہ ‘غیر دانشمندانہ’ ہے اور ممکنہ طور پر اس سے یہاں غیر ملکی گریجویٹ طلبا کا انبار لگے گا۔وہ کہتے ہیں کہ ‘ہماری یونیورسٹیاں ریکارڈ تعداد میں غیر ملکی طلبا کو راغب کر رہی ہیں اس لیے تعلیمی ویزے کی قدر میں کمی کر کے اسے یہاں کام کرنے کا متبادل راستہ بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔
برطانیہ میں غیر ملکی طلبا کی تعداد
بی بی سی کے مطابق برطانوی یونیورسٹیوں میں اس وقت ساڑھے چار لاکھ سے کچھ زیادہ غیر ملکی طلبا زیرِ تعلیم ہیں۔ان میں سے تقریبا دو تہائی طلبا کا تعلق یورپی یونین میں شامل ممالک سے نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان ممالک کے طلبا کو برطانیہ میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے سٹوڈنٹ ویزا درکار ہو گا۔یورپی یونین میں شامل ممالک کے طلبا کو برطانیہ میں پڑھنے کے لیے سٹوڈنٹ ویزا درکار نہیں ہوتا۔ایک لاکھ ستر ہزار سے ایک لاکھ پچاسی ہزار کے درمیان غیر ملکی طلبا ہر سال تعلیمی اداروں سے گریجویشن مکمل کرتے ہیں اور رائج قوانین کے مطابق انھیں گریجویشن مکمل کرنے کے چار ماہ کے اندر اندر برطانیہ چھوڑنا ہوتا ہے یا اپنے سٹوڈنٹ ویزے کو کسی اور کیٹگری کے ویزے سے بدلنا ہوتا ہے، جیسا کے ورک ویزا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *