نیوزی لینڈ میں مسجد پر حملے کے دوران زخمی ہونے والے پاکستانیوں میں کراچی کا نوجوان بھی شامل

کرائسٹ چرچ حملوں میں 4 پاکستانی زخمی اور 5 لاپتہ ہیں: ترجمان دفتر خارجہ

کراچی(پاکستان فوکس آن لائن)کرائسٹ چرچ میں دو مسجدوں پر حملے کے بعد سے پانچ پاکستانی نژاد افراد کی گمشدگی کا انکشاف ہوا ہے۔ تفصیلات کے مطابق دہشت گردی کے واقعے کے بعد گمشدہ ہونے والوں میں 36 سالہ محمد سہیل شاہد، 26 سالہ سید اریب احمد، 34 سالہ سید جہاں دید علی، 24 سالہ طلحہٰ نعیم اور محمد زاہد شامل ہیں۔نیوزی لینڈ میں پاکستانی ہائی کمیشن نے نجی ٹی وی کے پروگرام بڑی بات سے خبر کی تصدیق کی اور بتایا کہ ہائی کمیشن پانچوں افراد کے اہلخانہ سے رابطے میں ہے۔ دہشت گردوں کی فائرنگ سے حافظ آباد کا رہائشی محمد امین بھی زخمی ہوا جو اپنے بیٹے کے ہمراہ نماز جمعہ پڑھنے گیا تھا۔محمد امین کو سینے اور پسلیوں میں دو گولیاں لگیں، وہ کرائسٹ چرچ کے اسپتال میں زیر علاج ہیں۔محمد امین کے بیٹے یاسر امین کے مطابق وہ والد کے ساتھ نماز پڑھنے گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ حملہ آور نے مسجد کے باہر سے ہی فائرنگ شروع کر دی تھی۔واقعہ کے بعد محمدامین کے رشتہ دار انکے گھر پہنچنا شروع ہو گئے ۔اہل خانہ نے حکومت پاکستان سے اپیل کی کہ نیوزی لینڈ میں محمد امین کے بیٹے کو والد سے ملنے کے لئے اقدامات کیے جائیں۔حملے میں کراچی کا 27 سالہ اریب بھی زخمی ہوا ہے جو شہرقائد کے علاقے فیڈرل بی ایریا کا رہائشی ہے۔تفصیلات کے مطابق اریب چارٹڈ اکاؤنٹنٹ ہے جو کراچی کی ایک فرم میں ملازمت کرتا تھا جس نے ان کو نیوزی لینڈ بھیجا تھا۔اطلاعات کے مطابق اریب کو ٹانگ میں گولی۔ ان کے والدین کا کہنا ہے کہ ابھی تک اریب سے ہمارا رابطہ نہیں ہو پایا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے پاکستانیوں کی گمشدگی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ چار پاکستانی زخمی بھی ہوئے ہیں جن کا علاج جاری ہے۔ تاہم انہوں نے ناموں کی تصدیق نہیں کی۔انہوں نے امید کا اظہار کیا کہ لاپتہ افراد کا جلد پتہ چل جائے گا۔ ترجمان کے مطابق پاکستانی مشن مقامی حکام کے ساتھ رابطے میں ہے۔ڈاکٹر محمد فیصل نے مزید کہا کہ واقعے سے متعلق معلومات سے آگاہ کرتے رہیں گے۔

فوٹو: سید اریب احمد فیس بک اکاؤنٹ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *