فواد چوہدری نے رویت ہلال کمیٹی کو ختم کرنے کی سفارش کردی

اسلام آباد: (پاکستان فوکس آن لائن) وفاقی وزیر فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ رویت ہلال کمیٹی کو ختم کرنے کی سفارش کی ہے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیرسائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ہم قمری کیلنڈر کو او آئی سی میں لے کر جارہے ہیں، انشاءاللہ قمری کیلنڈر امت مسلمہ کا مشترکہ کیلنڈر ہوگا، ایران، یو اے ای اور سعودی عرب نے چاند دیکھنے والی ایپ کی تعریف کی ہے، دیگر اسلامی ممالک نے بھی ہماری کوششوں کو سراہا ہے اور اب موبائل سے ادائیگیوں کے حوالے سے کام کررہے ہیں۔
فوادی چوہدری نے کہا کہ ہم کابینہ سے درخواست کررہے ہیں کہ رویت ہلال کمیٹی کو ختم کرے اور حکومت ہمارے کیلنڈر کو سرکاری طور پر نافذ کرے جب کہ ہم موبائل پیمنٹس کی طرف آرہے ہیں اور اس حوالے سے ہوم ورک مکمل کرلیا ہے، موبائل پیمنٹس شروع ہوگئیں تو شناختی کارڈز کی ضرورت نہیں رہے گی۔
وزیرسائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کے ساتھ سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون شروع کررہے ہیں، ترکی کے ساتھ سائنس و ٹیکنالوجی میں تعاون بڑھانا چاہتے ہیں، اگر ہم سائنس و ٹیکنالوجی میں بنیاد نہیں رکھیں گے تو ترقی نہیں کرسکتے، امریکہ نے ہمیں 10 انکیوبیشن سینٹرز بنا کر دیئے ہیں۔
فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ہم شریف خاندان کی بد عنوانی سے تنگ آچکے ہیں کیوں کہ ان لوگوں کے ہر روز نئے کیسز سامنے آجاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف ، شہباز شریف اور آصف علی زرداری کے اکاؤنٹس میں پیسے ایسے اترے ہیں جیسے من و سلویٰ اترا ہو۔ان کا کہنا تھا کہ جب لوگوں کے بچے دودھ پینا چھوڑتے ہیں اس عمر میں ان خاندنوں کے بچے ارب پتی بن گئے۔
وفاقی وزیر نے نیب سے کہا کہ ان لوگوں کے اثاثے منجمد کر دینے چاہیں کیوں کہ یہ کرپٹ اثاثوں کو استعمال کرتے ہوئے مہم چلا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری زرداری اور نواز شریف سے زیادہ تیز ہیں اس سے پہلے کہ وہ اپنے اثاثوں کو ٹھکانے لگائے نیب انہیں فوراً منجمد کر دے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ افتخارچوہدری نے نواز شریف اور زرداری سے زیادہ ملک کو نقصان پہنچایا، ریکوڈک کے معاملے پر افتخارچوہدری اور حامد خان کو جیل میں ہونا چاہیے جب کہ نیب نواز شریف، شہباز شریف اور زرداری کے اثاثے منجمد کرے، نوازشریف کا آدھا خاندان پاکستان اور آدھا برطانیہ کا بچہ بننا چاہ رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *