اسرائیلی وزیراعظم انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے میں پھر ناکام

اسرائیل کے وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو عام انتخابات میں ایک مرتبہ پھر حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں تاہم مقابلہ سابق آرمی چیف بینی گانتز کی جماعت کے درمیان برابر ہوگیا ہے۔غیرملکیوں خبر ایجنسیوں کی رپورٹس کے مطابق موصول شدہ تقریباً مکمل نتائج میں طویل عرصے تک حکومت کرنے والے نیتن یاہو کو سال میں دوسری مرتبہ شدید دھچکا لگا۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو کی جماعت لیکود اور سابق آرمی چیف بینی گانتز کی بلیو اینڈ وائٹ پارٹی کو کم وبیش برابر نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔
نتین یاہو کی جماعت لیکود کی سربراہی میں اتحاد کو 120 کے ایوان میں 55 نشستیں جبکہ بائیں بازو کے اتحاد کو 56 نشستیں حاصل ہوئی ہیں اور حکومت بنانے کے لیے 61 نشستوں کی ضرورت ہوتی ہے۔لیکود کے ترجمان کا کہنا تھا کہ دائیں بازو کے متعدد رہنماؤں نے نیتن یاہو سے ان کے دفتر میں ملاقات کی اور اگلے حکومت میں ان کے ساتھ مل کر کام کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انتخابات کے بعد موصولہ نتائج کے مطابق سیکولر نیشلسٹ جماعت یسرائیل بیتینو کے سربراہ اور سابق وزیردفاع ایوگدور لیبرمین 9 نشستیں حاصل کرکے حکومت سازی کے لیے اہمیت اختیار کرگئے ہیں۔
ایوگدور لیبرمین کی جماعت کا مطالبہ ہے کہ تمام بڑی جماعتوں کی مشترکہ حکومت بنائی جائے لیکن انہوں نے رواں برس اپریل میں نیتن یاہو کی دائیں بازو اور مذہبی اتحاد کی حمایت کرنے سے انکار کردیا تھا اور اب ایک مرتبہ وہی صورت حال کا سامنا ہے۔
نتین یاہو نے اپنی انتخابی مہم میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے قریبی تعلقات کی بھرپور پرچار کی لیکن نتائج کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا، ان کی جانب سے جیت یا ہار تسلیم کرنے کا باقاعدہ اعلان سامنے نہیں آیا۔لیکود پارٹی کے رہنما اور وزیر توانائی یووال اسٹینٹز سمیت دیگر اراکین نے نیتن یاہو سے وفادار کے بیانات دیے ہیں۔نتین یاہو کے حوالے سے اسرائیل کے وزیرتوانائی کا کہنا تھا کہ ‘وہ بدستور پارٹی کے چیئرمین ہوں گے اور وزیراعظم کے امیدوار کے طور پر برقرار رہیں گے۔
انتخابی نتائج سے مایوس 69 سالہ نیتن یاہو نے اپنے ایک مختصر بیان میں کہا تھا کہ ان کا ارادہ ہے کہ عرب جماعتوں کے بغیر ‘زائیونسٹ حکومت قائم کریں کیونکہ عرب جماعتیں گانتز کی حمایت کرسکتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *