یواے ای نے تاریخ رقم کردی،عرب دنیا کا پہلا مشن مریخ پر روانہ

ہوپ مشن مریخ پر 200 دن بعد پہنچے گا اور 2 سال تک وہاں تحقیق کرے گا

متحدہ عرب امارات کا مریخ کے لیے تاریخی مشن’’ال امل ‘‘ جاپان کے خلائی مرکز سے روانہ ہوگیا۔ ال امل بھیجنے کے بعد یو اے ای مریخ پر غیرانسانی مشن بھیجنے والا پہلا عرب ملک بن گیا ہے۔اس حوالے سے امارات کے نائب صدر، وزیراعظم اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم نے کہا کہ امارات کے لیے یہ فخر کا لمحہ ہے، مشن نے روشن اور بہتر مستقبل کی امید جگائی ہے۔اس موقع پر عوام کے لیے برج خلیفہ پر اماراتی مریخ مشن کا کاؤنٹ ڈاؤن بھی دکھایا گیا۔سرخ سیارے کی جانب بھیجے جانے والے اس مشن کا نام ’’ال امل‘‘یعنی امید رکھا گیا ہے، اس 1350 کلو وزنی مشن کا سائز اسپورٹس گاڑی جتنا ہے۔متحدہ عرب امارات کا یہ غیرانسانی مشن 49 کروڑ 30 لاکھ کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے 7 ماہ میں سرخ سیارے پر پہنچے گا لیکن وہاں اترنے کے بجائے مدار میں مریخ کے ایک سال یعنی 687 روز تک گردش کرے گا۔مدار میں اس کی اوسط رفتار ایک لاکھ 21 ہزار کلو میٹر فی گھنٹہ ہو گی اور یہ 55 گھنٹے میں مدار کے گرد اپنا ایک چکر مکمل کرے گا۔
ہوپ مشن کو مریخ پر بھیجے جانے سے ہی متحدہ عرب امارات عرب دنیا کا وہ پہلا ملک بن گیا، جس نے مریخ پر تحقیقاتی مشن بھیجا۔ساتھ ہی متحدہ عرب امارات مسلم دنیا کا بھی وہ پہلا ملک بن گیا، جس نے سرخ سیارے کی تحقیقات کے لیے مشن روانہ کیا۔ہوپ مشن تقریبا 200 دن تک سفر کرنے کے بعد مریخ پر پہنچے گا اور اندازا وہ 2 سال تک سرخ سیارے پر رہ کر اہم تحقیقات کرے گا اور وہ مریخ پر جاکر اہم پانی، ہوا اور گیس سمیت اہم شواہد سے متعلق تحقیق کرے گی۔
واضح رہے کہ اس مشن کو 14 جولائی کو روانہ ہونا تھا لیکن موسم کی خرابی کے باعث اسے ملتوی کردیا گیا تھا جس کے بعد اسے اب روانہ کیا گیاہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *