شہبازشریف نے بیرون ملک اثاثوں کے متعلق جواب جمع کروا دیا

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نے قانونی ٹیم کی مشاورت سے نیب میں پیش ہونے کا فیصلہ کیا

لاہور: (پاکستان فوکس آن لائن)لاہور ہائیکورٹ سے ضمانت منظور ہونے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نیب لاہور میں پیش ہوگئے۔شہباز شریف کے نیب آفس پہنچنے سے پہلے پارٹی کارکنان کی بڑی تعداد نیب آفس کے باہر موجود تھی اور پارٹی صدر کے پہنچنے پر انہوں نے نعرے بازی کی۔مسلم لیگ (ن) کے صدر کی نیب میں پیشی کے موقع پر سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئےتھے، پولیس سمیت اینٹی رائٹ فورس کے 500 جوان تعینات کیے گئے جب کہ نیب آفس کے اطراف مین روڈ کو بیرئیر لگا کر سیل کیا گیا تھا۔
نیب کی تین رکنی انویسٹی گیشن ٹیم نے شہباز شریف سے ایک گھنٹہ پندرہ منٹ تک منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثوں کے حوالے سے سوالات کیے۔نیب کی ٹیم میں انویسٹی گیشن، پراسیکیوشن اور انٹیلی جنس کے افسران موجود تھے جب کہ اس موقعے پر سماجی فاصلوں کا خصوصی طور پر خیال رکھا گیا تھا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق شہباز شریف نے 13 سوالوں پر مشتمل جواب نیب کی تفتیشی ٹیم کو دیا اور بیرون ملک بنائے گئے اثاثوں سے متعلق تحریری جواب بھی جمع کروایا ہے۔شہباز شریف نے انیل مسرت سے لیے گئے قرض کی تفصیلات بھی فراہم کی ہیں۔ نیب میں پیشی کے دوران شہباز شریف سے پوچھا گیا کہ بتائیں بارکلے بینک سے کتنا قرض لیا۔ شہباز شریف نے ہارون یوسف اور عاصمہ داڑ لیے گئے قرض کی تفصیلات بھی بتائیں۔ نیب ذرائع کے مطابق شہباز شریف کے روبرو فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کی رپورٹ رکھی گئی اور 4 مشکوک ٹرانزیکشن سے متعلق بھی پوچھا گیا۔
نیب کی ٹیم نے شہباز شریف سے گزشتہ پیشی پر انہیں جو سوالات دیے گئے تھے ان کے جوابات طلب کیے جن میں اثاثوں، بینکوں سے لیے گئے قرضوں کی تفصیلات اور بطور وزیر اعلیٰ پنجاب ان کی فیملی کے اثاثوں میں غیر معمولی اضافوں سے متعلق سوالات شامل تھے۔نیب ٹیم نے شہباز شریف کو ان جوابات کا جائزہ لینے کے بعد دوبارہ کال کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے گفتگو کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *