دنیا کے حالات بدل دینے والے 9/11 کے حملوں کو 18 برس مکمل

گیارہ ستمبر 2001 وہ تاریخ ہے جب دہشت گردوں نے امریکی ترقی کی نشانی ورلڈ ٹریڈ سینٹر کو حملوں کے لیے منتخب کیا اور نیویارک کے ماتھے کا جھومر ورلڈ ٹریڈ سینٹر لمحوں میں ملبے کا ڈھیر بن گیا، لیکن اس کے ساتھ ہی دنیا کی تاریخ بھی بدل گئی۔نائن الیون کے واقعے کو18 برس بیت چکے ہیں، لیکن اس حملے کے بعد شروع ہونے والی جنگ کی آگ ابھی تک بجھ نہ سکی۔
امریکا میں آج 11 ستمبر 2011 کو نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر ہونے والے حملے کی یاد منائی جارہی ہے جس کا مقصد ’کبھی فراموش نہ کرنے‘ کی اپیل کے ساتھ دہشت گردی کے حملوں کی تعداد میں اضافے کی طرف توجہ دلانا ہے۔امریکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اس سلسلے میں حملوں کے مقام ’گراؤنڈ زیرو‘ پر متاثرہ افراد کے اہلِ خانہ جمع ہوں گے جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پینٹاگون میں اس حوالے سے منعقدہ تقریب میں شرکت کریں گے۔
دوسری جانب امریکی ریاست نیویارک کے گورنر اینڈریو کیومو نے تمام سرکاری اسکولوں میں 11 ستمبر کے حملوں کی یاد میں ہر سال ایک منٹ خاموش رہنے کا قانون منظور کرلیا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق اس ضمن میں جاری کردہ بیان کے مطابق ’اس قانون کا مقصد کمرہ جماعت میں ’بات چیت اور تعلیم کی حوصلہ افزائی‘ کے ساتھ ساتھ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ نئی نسل 2001 میں ہونے والے دہشت گردی کے حملے کو بہتر طور پر سمجھ اور اس کی تاریخی اہمیت سے واقف ہو سکے جس میں 3 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے‘۔خیال رہے کہ 18 برس بعد بھی امریکی قوم کے ذہنوں پر اس ہولناک حملے کے نقش تازہ ہیں اور ایئرپورٹ پر سیکیورٹی چیک سے لے کر افغانستان تک اس کے اثرات بکھرے ہوئے ہیں۔
ادھر ٹوئن ٹاور کے مقام پر حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کے نام کندہ ہیں جہاں طیارہ ہائی جیک کر کے عمارت سے ٹکرایا گیا تھا، ہر سال اسی وقت یہاں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کرنے کے بعد نصب شدہ گھنٹہ بجایا جاتا ہے۔مذکورہ حملے میں ہلاک ہونے والوں کے ساتھ ساتھ زخمی ہونے والے اور امدادی کارروائیوں کی وجہ سے بیمار پڑنے والے پولیس اہلکار، فائر فائٹرز، ملبہ اٹھانے، صفائی کرنے، بحالی کے کام انجام دینے والوں سمیت دیگر رضاکاروں کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف میں یہاں یادگار منسوب کی گئی ہیں۔
11 ستمبر 2001 کا سورج امریکا کے لیے قیامت بن کر ابھرا تھا، جب دہشت گردوں نے ہائی جیک کیے گئے 2 طیارے نیویارک میں موجود ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے ایک کے بعد ایک ٹکرا دیئے اور دنیا کی بلند ترین عمارت منٹوں میں زمین بوس کر دی تھی۔اس حملے میں 3 ہزار امریکی اور غیر ملکی باشندے مارے گئے اور 6 ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے جبکہ 10 ارب ڈالر کا مالی نقصان بھی ہوا تھا۔اسی روز دو مزید طیارے بھی ہائی جیک کیے گئے، جن میں سے ایک پینٹاگون کے قریب اور دوسرا جنگل میں گر کر تباہ ہوا تھا۔ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے کے فوری بعد دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کی ایک لہر نے جنم لیا تھا۔امریکا کی جانب سے ان حملوں کا ذمہ دار عالمی دہشت گرد تنظیم ’القاعدہ‘ اور اس کے سربراہ اسامہ بن لادن کو ٹھہرایا گیا تھا، تاہم ناکافی ثبوتوں کے باوجود اس وقت کے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے اسامہ کے میزبان ملک افغانستان پر جنگ مسلط کردی تھی، جس کے بعد سے دہشت گردی کے جن نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔18 برس سے زائد جاری رہنے والی جنگ میں شدت پسندوں کے ساتھ ساتھ ہزاروں افغان شہری بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ ہزاروں بے گھر ہوئے، تاہم امریکا کو اس جنگ میں اب تک کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔افغانستان سے باعزت واپسی کے لیے امریکا نے حال ہی میں طالبان کے ساتھ مذکرات بھی کیے تاہم سمجھوتے کے قریب پہنچ کر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات ’مردہ‘ ہونے کا اعلان کردیا۔

امریکا اسامہ بن لادن کو اپنا اولین دشمن قرار دیتا تھا اور اس کی تلاش میں افغانستان میں بے شمار کارروائیاں کیں اور بالآخر مئی 2011 میں امریکا نے اسامہ بن لادن کو ابیٹ آباد میں ایک آپریشن کے دوران ہلاک کردیا گیا۔
نائن الیون کے حملے نے امریکا کی پیشگی حملوں کی پالیسی یعنی ‘بش ڈاکٹرائن کو جنم دیا جس کے تحت افغانستان، شمالی کوریا، عراق اور ایران برائی کا محور قرار پائے اور اسی پالیسی کے تحت امریکا نے ان ممالک میں کارروائیوں کا آغاز کیا۔2001 کے بعد سے اب تک دہشت گردی کے خلاف شروع کی جانے والی جنگ کے نتیجے میں لاکھوں زخمی اور معذور جبکہ ہزاروں گرفتار ہوئے، اس کے علاوہ گوانتاناموبے جیسے بدنام زمانہ عقوبت خانے وجود میں آئے۔اس جنگ میں فرنٹ لائن اتحادی کی حیثیت سے سب سے زیادہ پاکستان متاثر ہوا اور یہاں شدت پسندی بڑھی اور دہشت گردی کے واقعات میں 50 ہزار سے زائد پاکستانیوں کی جانیں گئیں۔جس کے بعد پاکستان کو ان دہشت گردوں کا صفایا کرنے کے لیے ضرب عضب، ردالفساد سمیت مختلف فوجی آپریشنز کرنے پڑے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *