کرائسٹ چرچ: مساجد میں فائرنگ کے واقعے کی پہلی برسی

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں لوگوں نے اتوار کے روز پرجوش طریقے سے ایک سال قبل فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے 51 نمازیوں کے لیے عقیدت کا اظہار کیا۔واضح رہے کہ قومی یادگاری تقریب کو کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشے کے تحت منسوخ کردیا گیا تھا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے اے پی کی رپورٹ کے مطابق النور مسجد کے باہر تو تنگاتہ کلب کے درجنوں بائیکرز نے روایتی ماؤری ہاکا کا مظاہرہ کیا جہاں ان کا مسجد کے امام جمال فاؤدا نے استقبال کیا۔جمال فاؤدا کا کہنا تھا کہ تمام مذاہب کے ماننے والے اور ہر طبقے کے لوگ اپنی عقیدت پیش کرنے کے لیے آئے اور وہ سب نیوزی لینڈ باشندے ہونے کے باعث متحد ہوگئے ہیں۔
آج سے ایک سال قبل لِن ووڈ مسجد میں فائرنگ کے واقعے میں بچنے والے مظہر الدین سید احمد کا کہنا تھا کہ برسی منانا مسلمانوں کی روایت نہیں تاہم وہ ایسا کر رہیں تاکہ برادری سوگ کا اظہار کرسکیں اور اسے یاد رکھ سکیں۔ان کا کہنا تھا کہ فائرنگ کے واقعے کے بعد عوام کے دل میں پیار اور محبت بڑھ گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ‘ہم نے اپنے پیاروں، دوستوں، اہلخانہ اور برادری کے لوگوں کو کھویا مگر اس کے بعد بہت کچھ مثبت بھی ہوا، اگر اس کے مثبت حصے کو دیکھا جائے تو آج اس ملک میں رہنا کسی استحقاق سے کم نہیں۔النور مسجد میں 9 گولیاں لگنے کے بعد زندہ رہ جانے والے تمال اتا کوکوگو کا کہنا تھا کہ اس برسی سے زبردست جذبات سامنے آئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم غصے سے زیادہ صدمے میں ہیں، یہ بہت جذباتی ہے، میں آج صبح جب اٹھا تو، میرے پاس الفاظ نہیں، میں بیان نہیں کرسکتا کہ میں کیسا محسوس کر رہا تھا۔
وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن کا کہنا تھا کہ یادگاری تقریب کو منسوخ کیے جانے کا فیصلہ حفاظتی تدبیر کے تحت لیا گیا تھا۔یاد رہے کہ نیوزی لینڈ میں اب تک 8 کورونا وائرس کے کیسز کی تصدیق ہوچکی ہے۔یہ تمام کیسز بیرون ملک سے آنے والے افراد میں سامنے آئے تھے اور اب تک مقامی سطح پر اس کے پھیلاؤ کی کوئی علامتیں سامنے نہیں آئی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *