آصف زرداری کے پروڈکشن آرڈرکا معاملہ، پیپلز پارٹی کا اسپیکر آفس کے سامنے دھرنا

اسلام آباد: (پاکستان فوکس آن لائن) پاکستان پیپلزپارٹی( پی پی پی) کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف زرداری کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ ہونے پر پیپلزپارٹی کے ارکان نے اسپیکر آفس کے باہر دھرنا دے دیا۔پیپلزپارٹی کے ارکان نے اسپپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو ایوان میں جانے سے روک دیا۔
دھرنے کے شرکا کی جانب سے حکومت کے خلاف نعرے بازی جاری ہے جس میں بلاول بھٹو زرداری، راجہ پرویز اشرف، خورشید شاہ، شیری رحمٰن سمیت دیگر رہنما شریک ہیں۔قبل ازیں پارلیمنٹ میں پاکستان پیپلزپارٹی کا مشاورتی اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں پیپلز پارٹی کا اسپیکر قومی اسمبلی کے سامنے بھرپور احتجاج ریکارڈ کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں احتجاج ریکارڈ کرانے کی حکمت عملی پر غور کیا گیا تھا، مشاورتی اجلاس میں خورشید شاہ، شیری رحمٰن اوردسینیٹ اورقومی اسمبلی کے دیگر ارکان شریک تھے۔قبل ازیں قبل پاکستان مسلم لیگ(ن) کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں پاکستان مسلم لیگ (ن )کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کیا تھا۔شہباز شریف نے کہا کہ یہ عوام دشمن بجٹ ہے ، پورا زور لگائیں گے کہ عوام دشمن بجٹ منظور نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ پارلیمانی تاریخ میں پہلی دفعہ حکومت خود بجٹ پہ بحث شروع نہیں ہونے دے رہی، حکومت جان بوجھ کر بجٹ پہ بحث نہیں ہونے دے رہی۔پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں لیگی اراکین نے شہباز شریف کو مشورہ دیا کہ اپوزیشن لیڈر ایوان میں ہر صورت تقریر کریں اور عوام دشمن بجٹ سے قوم کو آگاہ کریں۔خیال رہے کہ 14 جون کو سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ایوان زیریں کے بجٹ سیشن میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ ہونے کے تنازع پر قومی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی کی وجہ سے اجلاس 2 مرتبہ ملتوی کردیا تھا۔بعد ازاں تیسری مرتبہ شروع ہونے والے اجلاس کی صدارت ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری نے کی لیکن قائد حزب اختلاف شہباز شریف ایوان میں خاموشی نہ ہونے کی وجہ سے اپنی تقریر کا باقاعدہ آغاز نہیں کرسکے تھے۔ پیپلزپارٹی ارکان کی جانب سے حکومت کے خلاف نعرے بازی جاری ہے، دھرنے میں راجہ پرویز اشرف، خورشید شاہ، شیری رحمٰن سمیت دیگر رہنما شریک ہیں۔تاہم ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے بجٹ پر بحث کے دوران ہنگامہ آرائی کی وجہ سے قومی اسمبلی کی کارروائی پیر تک ملتوی کردی تھی۔اپوزیشن نے بجٹ پر حکومت کو ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ کیا تھا، گزشتہ روز پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زردای اور پاکستان مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر مریم نواز نے ملاقات کی تھی۔بلاول بھٹو نے مریم نواز سے ملاقات کے بارے میں میڈیا کو بتایا تھا کہ ہمارے درمیان یہ طے پایا ہے کہ بجٹ منظور نہیں ہونے دیا جائے گا، ملاقات میں مہنگائی اور عوام دشمن بجٹ پر بات ہوئی۔انہوں نے کہا تھا کہ ’اب حکومت جاتی ہے تو جائے، عوام دشمن بجٹ منظور نہیں ہونے دیں گے‘۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *