چین میں مہلک کرونا وائرس پھیلنےکےبعد پاکستان میں ہائی الرٹ جاری

کرونا وائرس سے بچاؤ کیلئے ہوائی اڈوں پر خصوصی کاؤنٹر بنانے کا فیصلہ

اسلام آباد: (پاکستان فوکس آن لائن) چین سے پاکستان آنے جانے والے لاکھوں افراد کے ذریعے خطرناک وائرس نووال کرونا کی پاکستان منتقلی کے خدشات کے باعث ائیرپورٹس پر خصوصی کاؤنٹر بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ چین سے پراسرار مہلک وائرس کی پاکستان منتقلی کے خدشے کو پیش نظر رکھتے ہوئے قومی ادارہ صحت نے الرٹ جاری کردیا۔
تفصیلات کے مطابق چین سے کرونا وائرس کی پاکستان منتقلی کے خدشے کے تحت قومی ادارہ صحت نے ہدایت نامہ جاری کردیا ہے ۔ اس ہدایت نامے میں کہا گیا کہ چین سے پاکستان آنے والے مسافروں کا طبی معائنہ لازمی ہوگا۔ اس سلسلے میں ملک کے تمام ہوائی اڈوں پر خصوصی اسکریننگ ڈیسک تشکیل دیئے جائیں گے ۔ ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ د نیا میں کرونا وائرس کی ویکسین تاحال دستیاب نہیں ہے لہذا وائرس سے بچاؤ کا واحد حل بروقت احتیاطی تدابیر ہیں۔
اسلام آباد ائرپورٹ مینجر کے مطابق کرونا وائرس اسکریننگ صرف چین سے آنے والی پروازوں کے مسافروں کا کیا جائے گا ۔ کرونا وائرس کے سکریننگ کے آلات ہمارے پاس پہلے سے موجود تھے جبکہ سکریننگ ڈیسک کے ساتھ ماہر ڈاکٹرز بھی موجود ہیں۔ وائرس کی تشخیص ہونے پر متاثرہ مریض کو پمز اسپتال منتقل کیا جائے گا ۔
دوسری جانب چینی حکام نے بھی اپنے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اس وباء کو روکنے کے لئے اندرون و بیرون ملک سفر سے گریز کریں۔اس وائرس سے اب تک 9 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔حکام نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ وائرس کی انسان سے انسان میں منتقلی ہوئی ہے۔اس وباء کا مرکز چینی شہر ووہان ہے ، جس کی آبادی 8.9 ملین کے قریب ہے ۔ یہ نیا وائرس ووہان سے لے کر چین کے کئی صوبوں سمیت تھائی لینڈ ، امریکہ اور جنوبی کوریا تک پھیل چکا ہے۔ چینی محکمہ صحت کے مطابق اس وائرس کے پھیلاؤ کے روکنے کے لئے ہر ممکن اقدامات کئے جارہے ہیں ۔اس وباء کا آغاز اس وقت ہوا ہے جب پورے چین میں لاکھوں افراد قمری سال نو کی چھٹیاں منانے کے لئے اندرون ملک سفر کررہے ہیں ، جبکہ ہزاروں افراد اپنے دوستوں اور اہل خانہ کے ہمراہ بیرون ملک بھی سفر کررہے ہیں۔
کرونا وائرس کی علامات : کھانسی ، گلے کی سوجن ، ناک بہنا اور بخار سمیت متعدد علامات کرونا وائرس کا سبب بن سکتی ہیں ۔ جبکہ ہلکی علامات میں عام سردی شامل ہے ، جبکہ نمونیا کی صورت میں یہ سنگین شکل اختیار کرسکتا ہے ۔ یہ وائرس عام طور پر متاثرہ شخص سے براہ راست رابطے کے ذریعے دوسرے فرد میں منتقل ہوتا ہے ۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *