حکومت نواز شریف سے متعلق عدالت کا فیصلہ تسلیم کرتی ہے، فردوس عاشق اعوان

اسلام آباد: (پاکستان فوکس آن لائن)وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ نواز شریف سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کو عدالت تسلیم کرتی ہے۔
اسلام آباد میں کابینہ اجلاس کے بعد نیوز بریفنگ کے دوران فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ نواز شریف کو 8 ہفتوں کی ضمانت ملی ہے، نیب اور عدالتیں مکمل آزاد اور خود مختار ہیں، نواز شریف کے خلاف نیب مدعی تھی اور انہیں سزا عدالت سے ہوئی۔ وزیراعظم بارہا یہ کہہ چکے کہ اس کیس میں حکومت پاکستان مدعی نہیں تھی۔ سزا عدالت دیتی ہے تو سزا معطلی کا اختیار بھی عدالت کو ہے۔ ہمارا کام نواز شریف کو بہترعلاج کی سہولت دینا تھا جو ہم نے دیا ہے۔
فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ مدعی کو چست ہونا چاہیے، توقع ہے نوازشریف اپنے علاج پر توجہ دیں گے، نوازشریف کو ایک صحت مند حریف کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں، ہم کمزور نواز شریف سے سیاسی محاذ پر مقابلہ نہیں کرنا چاہتے، وفاقی حکومت اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ قبول کرتی ہے۔نواز شریف کی بیرون ملک منتقلی کے حوالے سے فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ نواز شریف کی طرف سے بیرون ملک جانے کی درخواست عدالت میں نہیں آئی، جب عدالت ہم سےپوچھےگی توجواب پہنچ جائےگا۔
اس سے قبل اپنی ٹوئٹ میں فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ حکومت نے جمہوری روایات کی پاسداری میں احتجاج کا حق دیا۔ ایک کالعدم تنظیم کی بارکھان میں لیویز فورس پر حملہ آور ہونے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔
معاون خصوصی نے کہا کہ ڈنڈوں اور اسلحہ کی موجودگی میں تمام صورتحال کی ذمہ داری مولانا فضل الرحمان پر ہے۔ مولانا فضل الرحمان کے جلوس میں جدید آتشیں اسلحہ کی موجودگی پر تشویش ہے۔ جمہوری جدوجہد کا دعویٰ کرنے والوں کے ہاتھ میں کلاشنکوف کی موجودگی کا کیا مطلب ہے؟
کابینہ اجلاس سے متعلق بات کرتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ کابینہ اجلاس میں 17 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا جبکہ سول ایوی ایشن (سی اے اے) نے آج ائرپورٹ کے اردگرد تعمیرات کے قانون کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ نے بڑے شہروں میں کثیرالمنزلہ عمارتوں کی تعمیر اور ڈی جی نیشنل سیونگز کی تعیناتی کی منظوری دی گئی۔ فنکاروں کے فنڈز کی تجویز وزارت اطلاعات و نشریات کے حوالے سے دی گئی تھی تاہم اداکاروں کے فنڈز کے معاملے کو مؤخر کیا گیا۔معاون خصوصی نے کہا کہ پاکستان ویٹنری کونسل کے ممبران کی تعیناتی کی بھی منظوری دی گئی، اس کے علاوہ ایس این جی پی ایل کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تعیناتی کی بھی منظوری دی گئی ہے۔ چیئرمین ایکیو ٹرسٹ بورڈ کی تعیناتی بھی منظور کی گئی۔انہوں نے کہا کہ سی ای او پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ اتھارٹی کی تعیناتی کی بھی منظوری دی گئی جبکہ پی ایل ایل کے ایم ڈی کا کنٹریکٹ ختم کرنے کی منظوری دی گئی۔ چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ کو ایم پی ون اسکیل دینے کی بھی منظوری دی گئی۔ کابینہ نے احساس پروگرام کے تحت غریب اور طلباء کو اسکالرشپس دینے کی منظوری بھی دی۔
فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ داسو ڈیم منصوبہ کی ایکنک میں منظوری کے بعد آج کابینہ نے بھی توثیق کر دی ہے۔ داسو ڈیم کی 2014 میں منظوری دی گئی تھی جبکہ 2019 میں اس کی تکمیل ہونا تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *