اگر احتیاط نہ کی تو بہت مشکل وقت آنے والا ہے، وزیراعظم

عوام اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز پر عمل کریں تو کیسز تیزی سے نہیں پھیلیں گے، عمران خان

اسلام آباد: (پاکستان فوکس آن لائن)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا عروج جولائی کے آخر یا اگست میں ہو گا۔وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اگر احتیاط نہ کی تو بہت مشکل وقت آنے والا ہے۔
اسلام آباد میں کورونا وائرس کی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ عوام اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پیز ) پر عمل کریں تو کیسز تیزی سے نہیں پھیلیں گے۔انہوں نے کہا کہ اگر آپ احتیاط کرلیں تو پاکستان اس تباہی سے نہیں گزرے گا جو امیر ترین ممالک میں آئی لیکن اگر ہم نے احتیاط نہ کی تو بڑا مشکل وقت آنے والا ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے عوام سے اپیل کی ہے کہ کورونا وائرس سے متعلق ایس او پیز پر عمل کریں۔ اگر احتیاط نہ کی تو بہت مشکل وقت آنے والا ہے۔کورونا وائرس سے متعلق صورتحال سے قوم کو آگاہ کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عوام کورونا وائرس کو سنجیدہ نہیں لے رہے اور کہہ رہے ہیں کہ یہ فلو ہے، اس لیے ایس او پیز پر عمل نہیں کرتے، میں سب کو کہنا چاہتا ہوں کہ اس عمل سے ہم سب کی زندگی مشکل میں ڈال رہے ہیں۔ ماسک ضرور پہنیں۔ ماسک کی وجہ سے 50 فیصد بیماری سے بچا جا سکتا ہے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ کوشش ہے کورونا کنٹرول میں رہے تاکہ ہسپتالوں پر دباؤ نہ پڑے۔عمران خان نے کہا کہ پتہ ہےکہ کورونانےمزیدپھیلناہےلیکن ہم نےاس کےپھیلاوَ کوکم کرناہے، کوشش ہےتیزی سےکورونانہ پھیلےتاکہ اسپتالوں پربوجھ نہ پڑے۔وزیراعظم نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اگرہم ایس اوپیزپرعمل کریں گے تواس حالات پرقابو پا سکتےہیں، جو لوگ شوگراوربلڈپریشرکےمریض ہیں ان کیلئےبہت خطرہ ہے۔
ساری دنیا نے لاک ڈاؤن کھول دیا ہے، لاک ڈاؤن کے اثرات معیشت پرپڑتے ہیں، لاک ڈاؤن سے دیہاڑی دارطبقہ سب سے زیادہ متاثرہوا، لوگوں کےگھروں میں بھوک ہے۔انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کا مطلب وائرس ختم نہیں ہوگا، لاک ڈاؤن کرکے وائرس کے پھیلاؤکوکم کرنا ہے۔ اگر احتیاط نہ کی تو بہت مشکل وقت آنے والا ہے، کوئی ملک زیادہ دیر تک لاک ڈاؤن برداشت نہیں کر سکتا،کیونکہ معیشت بھی چلانی ہوتی ہے، امریکا نے بھی لاک ڈاؤن کھول دیا ہے، جہاں پر ایک لاکھ سے زائد لوگ مر چکے ہیں۔عمران خان کا کہنا تھا کہ کوشش کر رہے ہیں کہ ایک ہزار سے زائد بیڈز (جن میں آکسیجن ہوتے ہیں) سارے پاکستان میں پہنچا دیں گے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستانی قوم کو احتیاط کرنی چاہیے، اگر ہم نے احتیاط نہ کی تو ملکی حالات بھی یورپ اور دیگر ممالک کی طرح ہو سکتے ہیں، امریکا میں ایک روز کے دوران دو ہزار سے زائد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ پاکستان میں تین ماہ کے دوران دو ہزار جاں بحق ہوئے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *