نیب کا پیپلز پارٹی رہنما خورشید شاہ کے گھر پر چھاپہ، اہم دستاویزات قبضے میں لے لی گئیں

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) پیپلز پارٹی رہنما سید خورشید شاہ کو کیوں گرفتار کیا گیا؟ نیب نے وجوہات بتا دیں۔ انہوں نے بے نامی جائیدادیں اور اثاثے بنائے۔ ہوٹل، پٹرول پمپ اور عالی شان گھروں کے مالک ہیں۔ نیب نے اسلام آباد میں ان کی رہائشگاہ سے دستاویزات بھی قبضے میں لے لیں۔
نجی ٹی وی کے مطابق قومی احتساب بیورو (نیب) کی ٹیم نے اسلام آباد میں پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ کے گھر پر چھاپہ مارا اور تلاشی کے دوران دستاویزات قبضے میں لے لیں۔نیب کے مطابق خورشید شاہ نے شکار پور روڈ سکھر میں 25 کروڑ لاگت کا تاج محل ہوٹل اعجاز بلوچ کے نام پر جبکہ روہی روڈ پر کروڑوں کی مالیت کا پیٹرول پمپ فرنٹ مین قاسم شاہ کے نام پر بنایا۔
ایک اور فرنٹ مین پپو مہر کے نام پر سرکاری اراضی پر بنگلہ اور روہڑی میں بے نامی گلگ ہوٹل تعمیر کیا گیا۔ خورشید شاہ نے پروفیسرز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوساٹی سکھر میں بھی محل نما گھر بنایا اور اس کے لیے ظاہر شدہ اثاثوں میں سے رقم استعمال نہیں ہوئی۔ پیپلزپارٹی رہنما نے عمر جان اینڈ کو اور نواب اینڈ کمپنی کو ٹھیکے دے کر بھی مالی فوائد حاصل کیے۔
دوسری جانب احتساب عدالت نے پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ کا 2 روزہ راہداری ریمانڈ منظور کر لیا ہے۔ پراسیکیوٹر نیب نے عدالت کو بتایا کہ خورشید شاہ کو گزشتہ روز گرفتار کیا گیا، ان کخلاف نیب سکھر میں کیس چل رہا ہے، آج سکھر کی کوئی فلائٹ نہیں، 7 روزہ راہداری ریمانڈ دیا جائے۔عدالت نے 21 ستمبر تک خورشید شاہ کا راہداری ریمانڈ منظور کرتے ہوئے انہیں متعلقہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو میں خورشید شاہ اپنی گرفتاری کو انتقامی کارروائی قرار دے دیا۔ انہوں نے کہا وزیراعظم سمیت وفاقی وزرا کے خلاف بھی انکوائریز چل رہی ہیں، مگر گرفتار اپوزیشن کو ہی کیا جا رہا ہے۔یاد رہے سابق اپوزیشن لیڈر اور پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ کیخلاف ان کے بینک اکاؤنٹس اور بے نامی جائیدادوں کی تحقیقات کی جا رہی تھیں۔نیب کے مطابق خورشید شاہ نے اعجاز کے نام سے سکھر، روہڑی میں دو جائیدادیں بنا رکھی ہیں جبکہ لڈومل کے نام پر 11، آفتاب حسین سومرو کے نام پر 10جائیدادیں بنا رکھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *