چینی بحرا ن کی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش،جہانگیر ترین، خسروبختیار سمیت کئی نام شامل

گندم اور چینی بحرا ن پر ہونے والی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم عمران خان کو پیش کر دی گئی جس میں جہانگیر ترین اور خسرو بختیار سمیت کئی نامور سیاسی خاندانوں کےنام شامل ہیں۔
حکومت کی جانب سے گندم اور چینی بحران کی رپورٹ جاری کر دی گئیں ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے ڈی جی ایف آئی اے کی سربراہی میں گندم اور چینی بحران کی رپورٹ کےلیے دو کمیٹیاں تشکیل دی تھیں اوررپورٹ 32 صفحات پر مشتمل ہے۔رپورٹ میں کئی نامور سیاسی خاندانوں کےنام شامل ہیں جس کے مطابق چینی بحران میں سب سے زیادہ فائدہ جہانگیر ترین نے اٹھایا اورجہانگیر ترین نے سبسڈی کی مد میں 56کروڑ روپے کا فائدہ اٹھایا،وفاقی وزیر خسرو بختیار کے رشتہ دار نے آٹے چینی بحران سے 45کروڑ روپے کمائے،ن لیگی سابق ایم پی اے غلام دستگیر کی ملز کو 14کروڑ کا فائدہ پہنچا، چودھری مونس الہیٰ اور چودھری منیر بارے بھی پیسے کمانے کا انکشاف ہوا،مونس الہیٰ اور چودھری منیر رحیم یار خان ملز،اتحاد ملز ٹوسٹار انڈسٹری گروپ میں حصہ دار ہیں۔
چینی بحران پر قائم کی گئی انکوائری کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ 6 گروپوں نے مل کر ایک مافیا کی شکل اختیار کر رکھی ہے اور یہ چینی کی قیمتوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق 6 گروپوں کے پاس چینی کی مجموعی پیداوار کا 51 فیصد حصہ ہے اوریہ آپس میں ہاتھ ملا کر مارکیٹ پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ چینی کی پیداوار پر چند لوگوں کا کنٹرول اور ان میں سے بھی زیادہ تر سیاسی بیک گراؤنڈ والے لوگ، یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ پالیسی اور انتظامی معاملات پر کس طرح اثر انداز ہوسکتے ہیں۔
جہانگیر ترین کے گروپ کی 6 شوگر ملز چینی کی مجموعی ملکی پیداوار کا 19 اعشاریہ 97 فیصد پیدا کرتی ہیں۔ مخدوم خسرو بختیار کے رشتہ دار مخدوم عمر شہریار کے آر وائی کے گروپ کی 6 شوگر ملز ہیں اور یہ 12 اعشاریہ 24 فیصد چینی پیدا کرتی ہیں۔ المعز گروپ کی 5 شوگر ملز 6 اعشاریہ 80 فیصد اور تاندلیانوالہ گروپ کی 3 شوگر ملز 4 اعشاریہ 90 فیصد چینی پیدا کرتی ہیں۔سابق صدر آصف زرداری کے قریبی ساتھی کے اومنی گروپ کی 10 شوگر ملز ہیں اور وہ 1 اعشاریہ 66 فیصد چینی پیدا کرتے ہیں، شریف فیملی کی 9 شوگر ملز 4 اعشاریہ 54 فیصد چینی پیدا کرتی ہیں۔
مذکورہ بالا 6 گروپوں کی 38 شوگر ملز چینی کی مجموعی پیداوار کا 51 اعشاریہ 10 فیصد پیدا کرتی ہیں جبکہ باقی 51 شوگر ملز 49 اعشاریہ 90 فیصد چینی پیدا کرتی ہیں۔ان شوگر ملز نے اپنی تنظیم پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن بنا رکھی ہے۔ پنجاب میں 30 دسمبر 2019 سے یکم جنوی 2020 تک شوگر ملز نے ہڑتال کی۔ ہڑتال میں شریف خاندان کی 4، المعز گروپ کی 2، تاندلیانوالہ گروپ کی 2، آر وائی کے اور جے ڈی ڈبلیو گروپ کی ایک ایک شوگر ملز نے حصہ لیا۔ بعد ازاں یہ ہڑتال شوگر ملز ایسوسی ایشن کی کال پر ختم کردی گئی جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ کون سے گروپ مافیا کا حصہ ہیں اور کس طرح مشترکہ مفادات کیلئے کام کر رہے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ وفاق اور صوبوں کے غلط اندازے کے باعث بحران پیدا ہوا،ایم ڈی پاسکو کی گندم خریداری کی رپورٹ درست نہیں تھی،چینی برآمد کرنے کا فیصلہ درست نہیں تھا ،چینی برآمد کرنے والوں نے دوطرح سے پیسے بنائے،چینی پر سبسڈی کی مد میں رقم وصول کی اور قیمت بڑھنے کا بھی فائدہ اٹھایا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ دسمبر 2018 سے جون2019 تک چینی کی قیمت میں 16روپے فی کلو اضافہ ہوا، شوگر ایڈوائزری بورڈ وقت پر فیصلے کرنے میں ناکام رہا،اس عرصے کے دوران کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا،موجودہ اسٹاک اور ضرورت تقریبا برابر ہے،تھوڑا سا فرق ذخیرہ اندوزوں کو قیمتیں بڑھانے کا مواقع فراہم کرے گا، حکومت اس معمولی فرق کو بھی ختم کرنے کے لیے چینی درآمد کرنے کی اجازت دے۔

Wheat-Report.PDF

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *