ایسا نظام چاہتے ہیں کہ نچلے طبقے کو شفاف طریقے سے پیسہ ملے،وزیراعظم عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے احساس کفالت پروگرام کا افتتاح کردیا

اسلام آباد: (پاکستان فوکس آن لائن) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جہاں تھوڑے سے لوگ امیر، باقی سب غریب ہوں، وہ ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔ ماضی میں نچلے طبقے کو نظر انداز کیا گیا۔ ایسا سسٹم چاہیے تھا کہ مستحقین کو دیانتداری سے پیسہ پہنچے۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ احساس کفالت پروگرام کے لیے بڑی دیر سے انتظار کر رہے تھے، ایسا نظام چاہتے تھے کہ نچلے طبقے کو شفاف طریقے سے پیسہ ملے۔
احساس کفالت پروگرام کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ بینک کرپٹ اکانومی تھی،مشکل وقت تھا،ہم پر بہت دباؤ تھا،چاہتے تھے جلدی جلدی اس پروگرام کو لائیں،ہم نے تقریبا 200 ارب روپے اپنے کمزور طبقات کے لیے رکھا تھا،ہم اسے جلد خرچ کرنا چاہتے تھے،پریشر کے باوجود دیانتداری سے سسٹم بنائے گئے،بڑے افسر اور گورنمنٹ ملازم یہ پیسہ کھا رہے تھے،چاہتے تھے200 ارب روپے مستحق لوگوں کو پہنچے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ سب سے بڑا خیراتی پروگرام چلاتا ہوں سب سے زیادہ پیسہ اکٹھا کیا،انسانیت کا تقاضہ ہے کہ دکھی انسانیت اور کمزور طبقے کی مدد کریں،اگر شفافیت نہ ہو تو اس میں سے برکت اٹھ جاتی ہے،یہ پیسہ اس طبقے کو جانا ہےجو اپنے بچوں کو کھانا نہیں دے سکتے،خواتین کے لیے بینک اکاؤنٹ کھولنا بڑا زبردست کام ہے،یوٹیلٹی اسٹور سے چیزیں خریدنے کے لیے کارڈ کا اجرا بڑا کام ہے،اس کارڈ کے ذریعے غریبوں کی مدد ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسمارٹ فون کے ذریعے دیہات میں تبدیلیاں آ رہی ہیں،دنیا تیزی سے آگے جارہی ہے،اسمارٹ فون کا فیصلہ بھی اچھا ہے،اسمارٹ فون کا اجرا بھی بڑا انقلاب ہو گا،2ہفتوں میں اگلا پروگرام احساس کا آئے گا،خواتین کو گائے،بھینسیں دے سکیں گے،یہ بھی انقلاب آئے گا،ہم مرغیاں دیں گےجس سے وہ انڈے بیچ سکیں گے۔
عمران خان نے کہا ہے کہ تیسرا پروگرام اسکالر شپ کا آرہا ہے،ان سب کا مقصد پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہے،اپنے نچلے طبقے کی ذمہ داری لیں گے،پروگرام کے تحت 70 لاکھ خواتین کو کفالت کارڈ ملیں گے،اب تک 7 لاکھ خاندانوں کو ہیلتھ کارڈ دے چکے ہیں،60 لاکھ خاندانوں کو ہیلتھ کارڈ دیں گے،5 لاکھ نوجوانوں کو اسکل ٹریننگ دیں گے،انڈسٹری کو اٹھانے کے لیے نوجوانوں کو قرض فراہم کر رہے ہیں،پاکستان 60 کی دہائی میں تیزی سے ترقی کر رہا تھا،ریاست مدینہ کےسنہری اصول ہمارے لیے لائق تقلید ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ بینظیرانکم سپورٹ پروگرام کاپیسہ چوری ہورہاتھا،بینظیرانکم سپورٹ پروگرام سے 8 لاکھ افراد کونکالنااحسن اقدام ہے،کمزور طبقے کابینک اکاؤنٹ کھلنا زبردست کام ہے ،دکھی انسانیت کی مددکرنااللہ کےقریب پسندیدہ عمل ہے،پاکستان کو فلاحی ریاست بنائیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *