ایس او پیز پر عمل نہ کرنے والی مارکیٹوں،علاقوں کو بند کردیا جائے گا، وزیراعظم

اپوزیشن چاہتی ہے کہ کورونا سے اموات میں اضافہ ہو تاکہ حکومت پر تنقید کی جا سکے، وزیراعظم کا خطاب

اسلام آباد: (پاکستان فوکس آن لائن)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں کورونا سےاموات اورکیسزمیں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں معلوم تھا کہ وقت کے ساتھ ساتھ کیسز اور اموات میں اضافہ ہو گا۔وزیراعظم نے اپنے خطاب میں الزام عائد کیا کہ اپوزیشن چاہتی ہے کہ کورونا سے اموات میں اضافہ ہو تاکہ حکومت پر تنقید کی جا سکے۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ملک بھر میں کورونا وائرس سے متعلق ایس اوپیز پر عمل درآمد کرانے کے لیے سختی سے کام لیا جائے گا اور خلاف ورزی کی مرتکب مارکیٹوں، فیکٹریوں اور علاقوں کو بند کردیا جائے گا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کورونا کے باعث ہلاکتوں میں اضافہ ہوا ہے اور جولائی میں اس میں مزید اضافہ ہوگا جس سے بچنے کے لیے ایس او پیز پر عمل کرنا بے حد ضروری ہوگیا ہے۔ حکومت اب ایس اوپیز پر عمل درآمد کرانے کے لیے سختی سے کام لے گی۔
وزیراعظم نے کہا کہ جن صنعتوں، مقامات یا علاقوں میں ایس او پیز پر عمل درآمد نہیں ہوگا اسے بند کردیا جائے گا اور سخت کارروائی کی جائے گی جس کی روزانہ کی بنیاد پر مجھے رپورٹ بھی دی جائے گی اور اس سارے عمل کی نگرانی میں خود کروں گا۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ڈاکٹرز اور طبی عملے کی مشکلات کا اندازہ ہے، آپ اللہ کے لیے کام کر رہے ہیں، اسے جہاد سمجھ کرانجام دیں۔ حکومت آئی سی یو کیلیے اسٹاف کی تیار کر رہی ہے جس کے لیے کریش کورسز کرائے جائیں گے۔وزیر اعظم نے کورونا وبا کے دوران حکومتی کارکردگی بتاتے ہوئے کہا کہ آغاز میں ٹیسٹنگ کی صرف 2 لیبارٹریز تھیں اور صرف 500 ٹیسٹوں کی گنجائش تھی جب کہ اب 107 لیبارٹریز ہیں اور 4 گھنٹے میں 25 ہزار ٹیسٹ کر سکتے ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے کورونا وبا کے دوران اپوزیشن کے کردار پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن سخت لاک ڈاؤن کا مطالبہ بار بار کر رہی ہے تاکہ معیشت بیٹھ جائے اور ایک بار پھر اپوزیشن پوائنٹ اسکورنگ کرے۔
وزیر اعظم نے اپوزیشن رہنما شہباز شریف کا نام لیے بغیر کہا کہ یہ لندن سے بھاگے بھاگے آئے، ماسک پہنا اور لیپ ٹاپ سامنے لے کر بیٹھ گئے کہ میں بتاؤں گا کورونا سے کیسے لڑا جائے۔وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ حکومت نے ہر قسم کے دباؤ کو برداشت کیا اور سخت لاک ڈاؤن کے بجائے اسمارٹ لاک ڈاؤن کیا جس سے مزدور طبقے کا بھی زیادہ نقصان نہیں ہوتا اور کورونا کو بھی کنٹرول کیا جاسکے۔
اس موقع پر وزیر اعظم عمران خان نے بھارت کے اچانک اور بغیر منصوبہ بندی کے نافذ کیے گئے سخت لاک ڈاؤن کے مضر اثرات پر عالمی سروے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میں نے اور میری ٹیم نے اسمارٹ لاک ڈاؤن کا بہترین فیصلہ کیا جس پر مجھے فخر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *