انڈونیشیا کے بعد ملائیشیا کا بھی شہریوں کو حج پر نہ بھیجنے کا اعلان

رواں سال تقریباً 30 ہزار شہریوں نے حج پر جانا تھا، وزارت مذہبی امور

کورونا وائرس کے پیش نظر اہم اسلامی ملک ملائیشیا نے بھی اپنے شہریوں کو رواں برس حج کے لیے سعودی عرب نہ بھیجنے کا اعلان کردیا۔سوا تین کروڑ سے زائد آبادی والے ملک ملائیشیا کی 60 فیصد آبادی مسلمان ہے اور ہر سال وہاں سے 30 سے 31 ہزار عازمین فریضہ حج کے لیے سعودی عرب جاتے ہیں۔تفصیلات کے مطابق ملائیشیا نے کورونا وبا کے پیش نظر رواں سال اپنے شہریوں کو حج پر جانے سے روک دیا۔غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق ملائیشیا کی جانب سے یہ بیان جاری کیا گیا ہے کہ رواں سال تقریباً 30 ہزار شہریوں نے حج پر جانا تھا تاہم وہ اب حج میں شرکت نہیں کرسکیں گے، یہ اقدام کورونا وائرس کی عالمی وبا کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ملائیشیا کے وزیر مذہبی امور نے کہا کہ ہم نے یہ فیصلہ اپنے مسلم اور پڑوسی ملک انڈونیشیا کے حج سے متعلق اقدامات پر عمل کرتے ہوئے کیا ہے، امید ہے کہ اس سال حج پر جانے والے عازمین حکومت کے اس فیصلے کو تسلیم کریں گے۔
خیال رہے ملائیشیا اور انڈونیشیا سمیت مسلم ممالک ہر سال ہزاروں کی تعداد میں ہزاروں کی تعداد میں اپنے شہریوں کو حج کے لیے بھیجتے ہیں تاہم اس بار کورونا وبا کے پھیلاؤ کے خدشے کو مدنظر رکھتے ہوئے ملائیشیا اور انڈونیشیا کی جانب سے اپنے شہریوں کو حج پر نہ بھیجنے کا اعلان سامنے آیا ہے۔ادھر کورونا وبا کو مدنظر رکھتے ہوئے سعودی عرب بھی رواں سال عازمین حج کی تعداد مختر کرنے اور علامتی تعداد کو حج اجازت دینے پر غور کررہا ہے تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا ہے۔واضح رہے ملائیشیا سے پہلے آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا مسلمان ملک انڈونیشیا رواں سال اپنے شہریوں کو حج پر نہ بھیجنے کا اعلان کرچکا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *