قوم کو توقع تھی کہ عاصم باجوہ کو پکڑا جائے گا لیکن پکڑ شہباز شریف کو لیا ہے، نواز شریف

نوازشریف کی دہائیاں

شریف خاندان کو عاصم سلیم باجوہ سے اصل مسئلہ کیا ہے؟

مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کا کہنا ہے کہ قوم کو توقع تھی کہ عاصم باجوہ کو پکڑا جائے گا لیکن پکڑ شہباز شریف کو لیا ہے۔لندن میں پاکستانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میاں نواز شریف نے شہباز شریف کی گرفتاری پر کہا کہ یہ سخت نا انصافی ہے ، یہ ظلم ، زیادتی اور نا انصافی ہے ، موجودہ نظام اور حکومت نے ساری روایات کو توڑ کر رکھ دیا ہے۔ ہم کسی صورت بھی اور کبھی بھی یہ تسلیم نہیں کریں گے۔اس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں تو یہ قطعاً قابل قبول نہیں ہیں اور ہم ان کے سامنے نہیں جھکیں گے۔انہوں نے کہا کہ قوم تو یہ توقع کر رہی تھی کہ عاصم باجوہ کو پکڑا جائے گا اور ان سے حساب لیا جائے گا کہ کس طرح سے ایک شخص نے نوکری کے دوران اتنی بڑی جائیدادیں بنالیں، پکڑا تو اسے جانا تھا لیکن پکڑ شہباز شریف کو لیا ہے۔۔۔۔
شریف خاندان کومسئلہ جنرل عاصم سلیم باجوہ سے یہ ہے کہ جس وقت نوازشریف وزیراعظم تھے اورآرمی چیف راحیل شریف تھے اس وقت ڈی جی آئی ایس پی آرعاصم سلیم باجوہ تھے اس دور میں جب جنرل راحیل شریف کی ہیڈ لائن لگتی تھی تو اس دور میں شریف خاندان کو لگتا تھا کہ عاصم سلیم باجوہ میڈیا کو بول کرنوازشریف کی خبریں چھوٹی اورجنرل راحیل شریف کی ہیڈ لائنز لگتی تھیں۔اصل میں اس وقت آئی ایس پی آر کو جدید بنانے میں عاصم سلیم باجوہ نے بہت کام کیا۔اور کچھ عرصہ پہلے میڈیا اورگورنمنٹ کے درمیان تلخی بہت بڑھ گئی تھی جوعاصم سلیم باجوہ کے آنے سے بہت حد تک ختم ہوگئی۔جنرل عاصم سلیم باجوہ نے وزیراعظم عمران خان کومشورہ دیا کہ میڈیا کہ کچھ لوگ جن کو آپ پرتحفظات ہیں شکایات ہیں آپ ان سے ملنا چاہیے ان کو بریف کریں ۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ گوادر کیوں پھل پھول رہا ہے، ترقی کیوں ہو رہی ہے؟ پہلے کی طرح سب کھایا کیوں نہیں جا رہا لگایا کیوں جا رہا ہے؟ کیسے سی پیک کو محفوظ ہاتھوں سے چھین لیں؟ آخری کیسے روکیں ترقی کو؟‘سی پیک منصوبہ جس سے ہماری دگرگوں معیشت کو ایک بھرپور اٹھان مل سکتی ہے، تعمیروترقی کا ایک نیا دور شروع ہو سکتا ہے، یہ ملک دشمن طاقتوں بشمول بعض عرب ممالک کو بہت کھٹکتا ہے۔ گزشتہ دور حکومت میں اس پر جو کام سست روی کا شکار تھا اور اس پر چین ہم سے ایک حد تک نالاں بھی تھا، اب اس منصوبہ پر تیزی سے کام جاری ہے اور نئے معاہدے بھی ہو رہے ہیں۔ روس چین کے ساتھ ہمارے بڑھتے اور مضبوط ہوتے تعلقا ت کس قدر امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کے مفادات کے لئے خطرہ ہیں اس کا اندازہ بخوبی کیا جا سکتا ہے۔اصل خطرہ خطے میں امریکی واسرائیلی مفادات کو ہے جن کے تحفظ میں عرب ممالک کو بھی اعلانیہ طور پر شامل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ یہ خطرہ انہیں خطے میں موجود تین بڑی مسلم فوجی طاقتوں پاکستان، ترکی اور ایران سے ہے ۔ اقوام متحدہ کے حالیہ سربراہی اجلاس میں ترکی کے ایک بار پھر مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل پر زور اور اس پر بھارتی رد عمل آنے والے وقت کا منظر نامہ بیان کرتے نظرآتے ہیں۔ ان سب باتوں کے پیش نظر کہ جب خطے میں بڑی تیزی کے ساتھ تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں تو یہ لوگ کس ایجنڈا کے تحت اکٹھے ہو کر ملک کو عدم استحکام سے دو چار کرنے اور پاک فوج ، جو کہ ملکی سلامتی کی ضامن ہے اس وقت تمام اندرونی وبیرونی محاذوں پر بخوبی نظر رکھے ہوئے حکومت وقت کے ساتھ ملکر ملکی استحکام کی جانب گامزن ہے، بعض عناصر پاک فوج کو سیاست میں الجھا کرملک کو دفاعی، سیاسی اور معاشی طور پر کمزور کرنے کی جانب کوشاں ہیں۔ کوئی شک نہیں کہ عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں ، معیشت کمزور ہے مگر دیکھا جائے تو یہ سب کس کا کیا دھرا ہے ،یہ قزاق، لٹیرے اور سیاسی بہروپئے کس کو بےوقوف بنا رہے ہیں۔ کیا عوام ان کا ماضی، ان کا کچاچٹھاسب بھول گئے ہیں، ہرگز نہیں بھولے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *