برنی سینڈرز امریکی صدارتی الیکشن کی دوڑ سے دستبردار ہوگئے

امریکا کے سینیئر سیاستدان سینیٹر برنی سینڈرز نے صدارتی امیدوار بننے کی دوڑ سے دستبردار ہوتے ہوئے اپنی انتخابی مہم ختم کرنے کا اعلان کردیا۔تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ڈیموکریٹس کے امیدوار کی دوڑ میں شامل برنی سینڈرز دستبردار ہوگئے ہیں جس کے بعد سابق نائب صدر جو بائیڈن مضبوط امیدوار بن گئے ہیں۔
خیال رہے کہ امریکا میں 3 نومبر 2020 میں صدارتی انتخاب شیڈول ہیں جس میں ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے صدارتی امیدوار کی نامزدگی کے لیے برنی سینڈرز اور سابق امریکی نائب صدر جوبائیڈن میں سخت مقابلہ تھا۔تاہم اب برنی سینڈرز کے فیصلے کے بعد جوبائیڈن کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے صدارتی امیدوار بننے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق برنی سینڈرز نے اپنے حامیوں سے آن لائن خطاب سے قبل اپنی مہم کے ارکان کو کانفرنس کال کے ذریعے فیصلے سے آگاہ کیا۔78 سالہ برنی سینڈرز کا کہنا تھا کہ ہم نے نظریاتی جنگ جیت لی ہے اور ہم امریکی شہریوں میں سماجی، معاشی، نسلی اور ماحولیاتی انصاف جیسے معاملات سے متعلق شعور بیدار کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ کوئی آسان فیصلہ ہرگز نہیں تھا، اس کا فیصلہ میں نے اپنے تمام ساتھیوں کے ساتھ مل کو پورے غوروفکر کے بعد کیا ہے۔برنی سینڈرز کی دستبرداری کو ترقی پسند امریکیوں کے لیے دھچکا سمجھا جارہا ہے جنہوں نے گذشتہ برسوں کے دوران ملک میں معاشی مساوات، صحت کے مسائل اور ماحولیاتی مسائل پر بھر پور آواز اٹھائی ہے۔
برنی سینڈرز کاکہنا تھا کہ وہ اپنی پارٹی ڈیموکریٹس کی جیت کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے اور اپنا بھرپور اثر رسوخ استعمال کریں گے۔ برنی سینڈرز نے مزید کہا کہ ہم سب مل کر آگے بڑھیں گے اور امریکی تاریخ کے سب سے خطرناک صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو الیکشن میں شکست دیں گے۔
خیال رہے کہ 2016 کے الیکشن میں بھی برنی سینڈرز ہیلری کلنٹن کے مقابلے میں دستبردار ہوگئے تھے تاہم ہیلری کلنٹن موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے شکست کھاگئی تھیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *