آئندہ مالی سال کیلئے 7600 ارب روپے کا وفاقی بجٹ آج پیش کیا جائے گا

ترقیاتی اخراجات کیلئے 650 ارب دفاع کیلئے 1402 ارب روپے مختص کیے جانے کا امکان

اسلام آباد: (پاکستان فوکس آن لائن)آئندہ مالی سال 2020-2021ء کا 7600 ارب روپے کا وفاقی بجٹ آج جمعۃ المبارک کو پیش ہو گا۔ جبکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں دس فیصد اضافے کا امکان ہے۔وفاقی بجٹ وفاقی وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر پیش کرینگے۔ یہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا دوسرا وفاقی بجٹ ہے۔
تفصیلات کے مطابق آئندہ مالی سال 2020-2021ء کا بجٹ جمعہ کو پیش کیا جائے گا جس کا حجم 7600 ارب روپے رکھا جا رہا ہے، ٹیکس آمدن کا ہدف 4950 ارب روپے رکھا جاسکتا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ خسارہ 3427 ارب روپے سے زائد رہنے کا امکان ہے، سود اور قرضوں کی ادائیگی پر 3235 ارب روپے خرچ ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ دفاع کے لیے 1402 ارب روپے خرچ ہوسکتے ہیں۔ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ میں پنشن کے لیے 475 ارب روپے خرچ ہونے کا امکان ہے، وفاقی وزارتوں اور محکموں کے لیے 495 ارب روپے کا بجٹ رکھا جا سکتا ہے۔ وفاق سبسڈی پر 260 ارب روپے خرچ کرسکتا ہے۔ وفاقی حکومت گرانٹس کی مد میں 820 ارب روپے جاری کر سکتی ہے، وفاق کا ترقیاتی بجٹ 650 ارب روپے رکھا جائے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے تمام شعبوں پر سیلز ٹیکس کی چھوڑ ختم کرنے پر زور دیا ہے۔ نان فائلرز کیلئے ٹیکس کی شرح میں اضافہ کرنے کا امکان ہے۔ نان فائلرز کیلئے انکم ٹیکس اور ایف ای ڈی میں اضافہ ہوسکتا ہے، نان فائلرز کیلئے جی ایس ٹی کی شرح بھی 17فیصد سے بڑھانے کی تجویز ہے۔ذرائع کے مطابق تنخواہ طبقے کے لیے انکم ٹیکس میں کسی رعایت کا امکان نہیں۔ غیر رجسٹرڈ افراد کو ان پٹ ٹیکس کریڈٹ کی سہولت بھی ختم ہو سکتی ہے۔ذرائع کے مطابق نئے مالی سال کے بجٹ میں غیرملکی کرنسی کے لین دین پر ودہولڈنگ ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے، غیرملکی کرنسی کے لین دین پر 0.6فیصد سے ایک فیصد تک ودہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے کی تجویز زیرغور ہے۔ذرائع کے مطابق ای سگریٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد ہوسکتی ہے، ایڈوانس انکم ٹیکس کا دائرہ بڑھانے کی تجویز ہے، ایڈوانٹس انکم ٹیکس ڈیلرز، ڈسٹری بیوٹرز، رٹیلرز تک بڑھ سکتا ہے۔ذرائع کے مطابق بجلی کے بلوں میں وِد ہولڈنگ ٹیکس کی سلیب بڑھا کر تین کرنے کی تجویز ہے، بجلی کے 33ہزار تک کے بل پر ود ہولڈنگ ٹیکس 5 فیصد سے 7.5فیصد کرنے کی تجویز ہے، 33 سے 66ہزار تک کے بل پر ود ہولڈنگ ٹیکس 10 فیصد اور 66ہزار سے زائد کے بل پر ود ہولڈنگ ٹیکس 15فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
اس سے قبل قومی اقتصادی سروے رپورٹ میں کورونا وائرس سے متعلق خصوصی باب بھی شامل کر لیا گیا، سروے کے مطابق وباء کے باعث ملک کی 56.6 فیصد آبادی سماجی اورمعاشی لحاظ سے غیرمحفوظ ہوگئی جبکہ ملک میں خواتین لیبر فورس کم ہوجائے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *