سابق ڈی جی پارکس کے اثاثوں سے متعلق ہوشربا انکشافات

لیاقت قائمخانی کے گھر سے 10 ارب کے اثاثے نکلے، نیب کا مزید 3 ریفرنسز قائم کرنے کا فیصلہ

کراچی: (پاکستان فوکس آن لائن) سابق ڈی جی پارکس کے ایم سی اور میئر کراچی کے مشیر لیاقت قائم خانی کو آج احتساب عدالت میں پیش کیا جائے گا۔قومی احتساب بیورو (نیب) کی ٹیم لیاقت قائم خانی کو جسمانی ریمانڈ کے لیے جج محمد بشیر کے روبرو پیش کرے گی۔
واضح رہےنیب حکام کے ہاتھوں گرفتار سابق ڈی جی پارکس لیاقت قائم خانی کے گھر سے برآمد زیورات اور نقدی کی مالیت 10 ارب روپے سے زائد بنتی ہےجس پر نیب نے ملزم کے خلاف 3 مزید ریفرنسز قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
سابق ڈی جی پارکس اور میئر کراچی کے مشیر لیاقت قائم خانی کے حوالے سے کرپشن کے پے درپے انکشافات سامنے آرہے ہیں، بڑے پیمانے پر بدعنوانی کے الزام میں نیب حکام کے ہاتھوں گرفتار سابق ڈی جی پارکس لیاقت قائم خانی کے گھر پرُتعیش اور چمچماتی کاروں کے بعد جمعے کوان کے گھر کے لاکرزسے نیب حکام کو زیورات، سیونگ سرٹیفکیٹس اور پرائز بانڈز کے علاوہ دیگر اہم نوعیت کی دستاویزات ملیں۔
ذرائع کے مطابق لیاقت قائم خانی نے گھر میں موجود لاکر کا کوڈ نیب حکام کو دوران تفتیش بتایا جس کی بنا پرنمبروں سے کھلنے والے آہنی تجوری سے کروڑوں روپے کے زیورات اور دیگر اشیا ملیں، لیاقت قائمخانی کے گھر سے برآمد سونے کی اشیاء کی مالیت 15 کروڑ روپے سے زائد ہے جبکہ گھر سے برآمد کے ایم سی دستاویزات میں باغ ابن قاسم کے فنڈز کی فائلیں بھی شامل ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق لیاقت قائم خانی کے گھر سے برآمد اثاثوں کی مالیت 10 ارب روپے سے زائد بنتی ہے، اسی تناظر میں نیب حکام نے لیاقت قائمخانی کے خلاف تین مزید ریفرنسز قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ جعلی اکاوئنٹس کیس کے علاوہ لیاقت قائمخانی پرآمدن سے زائد اثاثے بنانے اور کرپشن جعلی دستاویزات کے ریفرنس بھی دائر ہوں گے۔ذرائع نیب کا کہنا ہے کہ لیاقت قائمخانی نے پارکس میں جعلی کام کرانے کے لیے جعلی کمپنیاں بنائی ہوئی تھیں، ان کمپنیوں کے نام پر فنڈز ریلیز کیے جاتے تھے جس سے کسی کو کوئی حصہ نہیں دیا جاتا تھا۔دوسری جانب لیاقت قائم خانی کے گھر سے برآمد دستاویزات کے ذریعے کے ایم سی کے محکمہ باغات سے متعلق اہم انکشافات سامنے آگئے، ذرائع نیب کا کہنا ہے کہ لیاقت قائمخانی نے بیس سال میں کراچی کے 71 پارکس کو صرف کاغذات میں بنایا اور ایک ارب سے زائد ہڑپ کرلیے، ملنے والی دستاویزات سے کرپشن کے پیسے کے ایم سی افسراں سابق عہدیداروں اور اہم سیاست دانوں کو بھی حصہ دینے کا انکشاف ہوا ہے۔ذرائع نیب کے مطابق لیاقت قائمخانی 2007ء سے غیر قانونی طور پر کے ایم سی کے مشیر باغات تھے، گریڈ اکیس میں ریٹائرڈ منٹ کے بعد کے ایم سی سے ایک لاکھ روپے پینشن بھی وصول کرتے تھے، لیاقت قائمخانی نے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے عہدے سے ملازمت کا آغاز کیا اور آخری تنخواہ سوا لاکھ روپے وصول کی۔

کراچی کی غریب بستی گٹر باغیچہ کا رہائشی، پی ای سی ایچ ایس سوسائٹی کے پوش علاقے میں 2000 گز کے محل نما بنگلے کا مکین ہو گیا۔ کھاد مٹی میں مل گئی، پانی زمین پی گئی، پودے جل کر سوکھ گئے اور پیسہ بلوں میں پاس ہو گیا۔ یہ فارمولا تھا لیاقت علی کی کرپشن کا۔
سابق ڈی جی پارکس کراچی لیاقت قائم خانی کا تعلق ضلع سانگھڑ کے علاقے کھپرو سے ہے، ان کے آبائی علاقے میں بھی مبینہ اثاثوں کے بارے میں ہوشربا تفصیلات سامنے آئی ہیں۔لیاقت قائمخانی کے آبائی علاقے کھپرو میں پرانے واقفان حال اور قریبی خاندانی ذرائع دعویٰ کرتے ہیں کہ کھپرو اور سندھڑی کے علاقوں میں ان کی مبینہ طور پر 500 ایکڑ سے زائد زرخیز زرعی زمین ہے۔ذرائع کے مطابق کھپرو میں لیاقت قائمخانی کا ایک ایکڑ پر محیط جدید سہولیات سے مزین سنٹرلی ایئر کنڈیشنڈ بنگلے کے علاوہ برائلر مرغی کے کئی فارمز، بھینسوں کے باڑے اور شہر کے وسط میں مارکیٹس بھی ہیں۔
قریبی ذرائع کے مطابق کھپرو میں دو ایکڑ پر محیط جگہ پر شاندار پارک قائم کیا گیا ہے جس میں والد کا عالی شاہ مقبرہ تعمیر کیا گیا ہے، اس پارک نما قبرستان کا ڈیزائن کراچی کے باغ ابن قاسم سے ملتا جلتا بنایا گیا ہے۔لیاقت قائمخانی کے والد ایک عطائی ڈاکٹر تھے اور ان کے نام پر میرپورخاص میں نجی کالج بھی قائم ہے۔
خیال رہے کہ نیب نے دو روز قبل سابق ڈی جی پارکس اور میئر کراچی کے مشیر لیاقت قائمخانی کو اسلام آباد سے حراست میں لیا تھا اور ان کے کراچی میں واقع گھر پر چھاپے کے دوران 10 ارب روپے سے زائد مالیت کی اشیاء برآمد ہوئی تھیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *