ڈالر کس نے ذخیرہ کئے؟ 2 اہم اداروں نے رپورٹ تیار کرلی

لاہور: (پاکستان فوکس آن لائن) کس مافیا نے ڈالر ذخیرہ کئے ،کس طرح ڈالر مارکیٹ سے غائب ہوئے ،کس طرح ڈالر کی مصنوعی قلت پیدا کر کے مانگ بڑھائی جا رہی ہے اور کن کن سوشل میڈیا کے اکاؤنٹس سے ڈالرز کے حوالے سے پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے ، دو اہم اداروں نے رپورٹ تیار کر لی ۔ٹاپ 51مافیا کے ایسے تمام افراد جنہوں نے ڈالر کی قیمت بڑھانے اور ڈالر کی ذخیر ہ اندوزی میں اہم کردار ادا کیا، ان کے حوالے سے اہم شواہد حاصل کر لئے گئے ہیں جبکہ 72منی ایکس چینجر، 18بڑے بک میکر اور 9لینڈ مافیا کے بڑے نام بھی سامنے آئے ہیں،ڈالر کے حوالے سے سوشل میڈیا پر مہم چلانے والے 380سوشل میڈیا گروپس کے حوالے سے بھی نہ صرف سراغ لگا لیا گیا بلکہ حیر ت انگیز طور پر ان میں سے زیادہ اکاؤنٹس 3سیاسی جماعتوں کے سوشل میڈیا سیل کو چلانے والے افراد چلا رہے ہیں ۔میڈیا رپورٹسکے مطابق تمام تر حکومتی اقدامات کے باوجود بھی ڈالر کس طرح بے قابو ہوا اور پاکستانی معیشت کو کس طرح ڈالر مہنگا اور ذخیرہ کر کے نقصان پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے ، اس حوالے سے اہم اداروں کی رپورٹ میں کئی اہم نام بے نقاب ہوئے ہیں ۔ نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق 51ایسے ٹاپ مافیا کے نام سامنے آئے ہیں جن کا بزنس کمیونٹی سے بڑا گہرا تعلق ہے اور ان میں سے کئی ایسے بھی لوگ شامل ہیں جو ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے حکومتی سطح پر ہونے والی میٹنگوں میں بھی شامل رہتے ہیں جبکہ اس ٹاپ 51مافیا کی لسٹ میں بڑے منی ایکس چینجر ،معروف کاروباری شخصیات اور 6سابقہ بینکر ز کے نام بھی شامل ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ کچھ حاضر سروس بینکر بھی اس بحران میں اپنا اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور ڈالر کی مانگ کے حوالے سے سب سے پہلے وہ مختلف مافیا کے افراد کے اطلاع دیتے ہیں، اس کے بعد ڈالر تیزی سے غائب ہونا شروع ہو جاتا ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کئی بڑے بک میکرز جن کے بھارتی بک میکرز سے رابطے ہیں، ان کی بھی ایک بڑی سرمایہ کاری اس ذخیرہ اندوزی میں شامل ہے ۔ذرائع کے مطابق رپورٹ میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ اس بڑی سرمایہ کاری کے پیچھے بھارتی مافیا بھی شامل نظر آتا ہے جو مختلف بڑے بک میکرز کے ذریعے ڈالر کی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی بحران پیدا کرا کر پاکستانی معیشت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ضمن میں 72ایسے منی ایکس چینجر ز کے نام بھی سامنے آئے ہیں جو کہ مصنوعی بحران میں مافیا کیلئے باقاعدہ استعمال ہوتے رہے اور مختلف جگہوں سے ڈالر ز اکھٹے کر کے مافیا کو پہنچاتے رہے اور ان منی ایکس چینجرزنے بھی افواہوں اور مصنوعی بحران اور ڈالر کو مہنگا کرنے میں اپنا اہم کردار ادا کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ لینڈ مافیا اور سابق بینکرز کے نام بھی سامنے آئے ہیں جن کے حوالے سے سے یہ بھی ثبوت ملے ہیں جنھوں نے مارکیٹ اور مختلف ذرائع سے بھاری تعداد میں ڈالر ز مارکیٹ سے خرید کر اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں اور مزید خریدو فروخت بھی کر رہے ہیں ۔ڈالر کے حوالے سے کس طرح سوشل میڈیا پر منفی مہم چلائی گئی اور کس طرح یہ تاثر دیا گیا کہ ڈالر 200روپے تک چلا جائے گا اور سوشل میڈیا پر افراتفری پھیلا کر ڈالر کے حوالے سے مانگ بڑھانے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے حوالے سے یہ انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ ان میں تین سیاسی جماعتوں کے سوشل میڈیا سیل چلانے والے گروپ سب سے زیادہ متحرک ہیں ۔رپورٹ میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ جس مافیا نے یہ مصنوعی بحران پیدا کیا ہے ، ان بڑے اور تگڑے کارروباری گروپوں کے سابقہ اور موجودہ سیاسی جماعتوں و سابقہ و موجو دہ حکمرانوں سے تعلقات ہیں، رپورٹ میں تما م افراد کے خلاف سخت ایکشن لینے کا کہا گیا ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *