افغان لڑکی نے والدین کو قتل کرنے پر 2 طالبان جنگجووں کو مار ڈالا

افغان سیکیورٹی فورسز نے قمر گل اور ان کے چھوٹے بھائی کو محفوظ مقام پر منتقل کردیا ہے، حکام

غزنی: (پاکستان فوکس آن لائن) ایک افغان لڑکی نے 2 طالبان جنگجوؤں کو گولی مار کر ہلاک جبکہ متعدد کو زخمی کردیا جب انہوں نے حکومت کی حمایت کرنے پر لڑکی کے والدین کو گھر سے گھسیٹتے ہوئے لے جا کر مار ڈالا۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ گزشتہ ہفتے پیش آیا جب جنگجوؤں نے صوبہ غور کے ایک گاؤں سے تعلق رکھنے والی قمر گل کےگھر پر حملہ کیا۔مقامی پولیس کے سربراہ حبیب الرحمٰن ملک زادہ نے اے ایف پی کو بتایا کہ جنگجو لڑکی کے والد کو تلاش کررہے تھے۔پولیس افسر کا مزید کہنا تھا کہ لڑکی کے والد حکومت کے حمایتی تھے اس لیے طالبان ان کے گھر گئے اور انہیں گھسیٹ کر باہر نکالا، جب ان کی اہلیہ سے مزاحمت کی طالبان نے دونوں میاں بیوی کو انہی کے گھر کے باہر قتل کردیا۔پولیس افسر نے بتایا کہ قمر گل گھر کے اندر موجود تھی جس نے یہ صورتحال دیکھتے ہوئے اے کے 47 (کلاشنکوف) اتھائی اور پہلے ان دو طالبان جنگجوؤں کو مارا جنہوں نے اس کے والدین کو قتل کیا تھا اس کے بعد دیگر کو زخمی کردیا۔افغان حکام کے مطابق قمر گل کی عمر 14 سے 16 سال کے درمیان ہے تاہم افغانستان میں عام طور پر عمر کا درست ریکارڈ رکھا نہیں جاتا۔واقعے کے بعد دیگر طالبان جنگجو ان کے گھر پر حملہ کرنے آئے لیکن گاؤں والوں اور حکومت کی حمایت کرنے والے عناصر نے انہیں ایک جھڑپ کے بعد واپس جانے پر مجبور کردیا۔صوبے کے گورنر کے ترجمان محمد عارف ابر نے بتایا کہ افغان سیکیورٹی فورسز نے قمر گل اور ان کے چھوٹے بھائی کو محفوظ مقام پر منتقل کردیا ہے۔واقعے کی تصیلات سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں جہاں قمر گل کو ان کی ’بہادرانہ‘ عمل پر خوب سراہاجارہا ہے۔اس کے ساتھ گزشتہ چند روز کے دوران قمر گل کی ایک تصویر جس میں انہوں نے سر پر دوپٹہ پہنا ہوا ہے اور ہاتھ میں میشن گن تھامی ہوئی ہے وہ بھی وائرل رہی۔ایک فیس بک صارف نجیبہ رحیمی نے لکھا ’ہمت کو سلام ہے، بہت اچھا کیا‘، ایک اور فیس بک صارف فضیلہ علی زادہ نے کہا کہ ’افغان لڑکی کی طاقت‘۔علاوہ ازیں محمد صالح نامی فیس بک صارف کا کہنا تھا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ والدین کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا لیکن آپ کا انتقال آپ کو سکون دے گا‘۔طالبان عموماً گاؤں کے ان افراد کو قتل کرتے ہیں جن پر انہیں حکومت یا سیکیورٹی فورسز کے مخبر ہونے کا شک ہوتا ہے۔حالیہ مہینوں کے دوران جنگجوؤں نے کابل کے ساتھ امن معاہدے پر اتفاق کے باوجود سیکیورٹی فورسز کے خلاف اپنے حملوں میں اضافہ کردیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *