پاکستان افغان امن عمل کی کامیابی کیلئے کوششیں کرتا رہے گا، وزیر اعظم

بھارتی متنازع قانون سے پاکستان کیلئے مہاجرین کا بہت بڑا مسئلہ پیدا ہوگا

اسلام آباد: (پاکستان فوکس آن لائن) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بھارتی متنازع قانون سے پاکستان کیلئے مہاجرین کا بہت بڑا مسئلہ پیدا ہوگا۔
وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں افغان مہاجرین سے متعلق عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 20 سال پاکستانی عوام کیلئے بہت مشکل رہے لیکن تمام تر مشکلات کے باوجود پاکستان نے افغان مہاجرین کی میزبانی کی، افغان مہاجرین کے بچوں میں پاکستان میں کرکٹ سیکھی، آج افغانستان کی کرکٹ ٹیم عالمی درجہ بندی میں شامل ہو چکی ہے۔
عمران خان نے بھارت میں انتہاپسندی کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 6 ماہ سے مقبوضہ کشمیر میں عوام کھلی جیل میں قید ہیں، ایک ارب سے زائد آبادی والے ملک پر انتہاپسندی کا قبضہ ہو چکا ہے، بھارت میں متنازع شہریت بل سے 20کروڑ مسلمانوں کو نشانہ بنایاجا رہاہے، بی جے پی لیڈرز متنازع قانون کے خلاف احتجاج کرنےوالے مسلمانوں کو پاکستان جانے کا کہتے ہیں، اقوام متحدہ اور عالمی برادری نے اس مسئلے کو حل نہ کیا اور اپنا کردار ادا نہ کیا تو اس سے مستقبل میں مہاجرین کا بہت بڑا مسئلہ پیدا ہوگا اور پاکستان کے لیے مشکلات پیدا ہوں گی۔وزیراعظم نے کہا کہ آر ایس ایس کے بانی نازی ازم سے متاثر تھے، مودی حکومت نازی فلسفے کو پروان چڑھا رہی ہے، یہ نہرو اور گاندھی کا بھارت نہیں، بھارت میں سیاست کیلئے لوگوں کو تقسیم کیا جا رہا ہے، حالات سنگین ہونے سے پہلے عالمی برادری کو نوٹس لینا چاہیے، اقوام متحدہ نے توجہ نہ دی تو مستقبل میں بہت بڑا مسئلہ بن کر ابھرے گا، اس سے پہلے کہ معاملات ہاتھ سے نکل جائیں کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ دعا ہے افغانستان مین امن مذاکرات کامیاب ہوں، افغان عوام نے گزشتہ دہائیوں سے بہت سی مشکلات برداشت کی ہیں، پاکستانی قوم اور تمام ادارے افغانستان میں امن کے خواہشمند ہیں، ہماری پہلے پالیسیاں جو بھی رہی ہیں لیکن میری حکومت نے افغان امن عمل کیلئے ہرممکن تعاون کیا ہے۔
عمران خان نے مغرب میں اسلام و فوبیا اور انتہا پسندی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ نائن الیون کے بعد اسلام اور دہشتگردی کوساتھ جوڑا گیا اور اسلاموفوبیا نے مغرب میں مسلمان مہاجرین کی مشکلات میں اضافہ کیا، مغرب میں رنگ کی بنیاد پر لوگوں کو مارا پیٹا جاتا رہا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *