ہیوسٹن ریلی میں ٹرمپ، مودی یکجہتی مظاہرہ، باہر مقبوضہ کشمیر پر احتجاج

ہیوسٹن: (پاکستان فوکس آن لائن) امریکی ریاست ہیوسٹن میں ہونے والی’ ’ہاؤڈے مودی‘‘ نامی ریلی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ایک ساتھ شرکت کی اور ایک دوسرے پر تعریفوں کی بوچھاڑ کرتے رہے جبکہ باہر کھڑے مظاہرین 49 روز سے کرفیو زدہ مقبوضہ کشمیر کے رہائشیوں کیلئے آواز اٹھاتے رہے۔اس موقع پر امریکا کے شہر ہیوسٹن کے این آر جی اسٹیڈیم میں بھارتی وزیراعظم نریندری مودی کے جلسے کے خلاف مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی ریلی نکالی اور مودی کو نسل پرست قرار دیتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر میں مظالم کی جانب دنیا کی توجہ دلائی۔
ہیوسٹن میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کیخلاف ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور تاریخی احتجاج کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی آزادی کا مطالبہ کیا۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیوسٹن کے اسٹیڈیم میں جلسہ کرنے پہنچے تو ان کے خلاف زبردست احتجاج کیا گیا۔پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے ٹوئٹر پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ ‘ہر رنگ، نسل، جنس اور عمر سے تعلق رکھنے والے افراد سڑکوں پر نکلے اور مودی کی نسل پرست حکومت کی مذمت کی۔
ہیوسٹن میں مودی کے سٹیڈیم میں جلسے سے خطاب کے دوران ہزاروں پاکستانی، کشمیری اور سکھ سڑکوں پر آ گئے اور سٹیڈیم کے باہر زبردست مظاہرہ کیا اور فری ویئر کے علاقے میں ریلی نکالی ، جس سے سڑکیں جام ہو گئیں۔ بھارتی وزیر اعظم دہشت گرد اور کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے بینرز آویزاں کئے گئے، سکھوں نے خالصتان تحریک کے بینرز اور جھنڈے لہرائے، مظاہرین کی بڑی تعداد نے مودی کلر کے نام کی ٹی شرٹیں پہن رکھی تھیں۔ فضا کشمیر بنے گا پاکستان مودی ہٹلر، فاشسٹ اور مقبوضہ وادی میں مظالم بند کرو کے نعروں سے گونجتی رہی۔

مظاہرین نے کہا مودی تمہارے دن گنے جا چکے ہیں، تمہارا اقتدار جلد ختم ہو جائے گا، ٹیکساس کے ہر شہر اور گاؤں سے پاکستانی، سکھ، بھارتی مسلمان اور کشمیری سینکڑوں بسوں پر ہیوسٹن پہنچے تھے، مظاہرین نے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو ہٹانے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ریلی میں وفاقی وزیرعلی امین گنڈا پور بھی شریک ہوئے۔ انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرایا جائے، عالمی برادری مقبوضہ وادی میں بھارتی مظالم بند کرائے، مسئلہ کشمیر ایٹمی فلیش پوائنٹ بن گیا، پاکستان اور بھارت میں جنگ سے نہ صرف خطہ بلکہ دنیا بھی متاثر ہو گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *