لارڈز میں پاکستان کی فتح، ‘کوئی پوچھے تو کہنا قمر باجوہ آیا تھا

لندن: (ویب ڈیسک) اتوار کو پاکستان نے جنوبی افریقہ کو ورلڈ کپ 2019 کے ایک ایسے مقابلے میں شکست دی جسے نہ جیتنے کی صورت میں ٹیم کو گھر واپسی کا ٹکٹ کٹانا پڑتا۔یوں تو کئی مایہ ناز کھلاڑی و دیگر شخصیات یہ میچ دیکھنے کے لیے آئے تھے مگر پاکستان کے سوشل میڈیا پر جن دو شخصیات پر سب سے زیادہ بات ہوئی وہ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور فوجی ترجمان میجر جنرل آصف غفور تھے، جو یہ میچ دیکھنے کے لیے لارڈز کے میدان میں موجود تھے۔
صارفین کی جانب سے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جانے والی تصاویر اور ویڈیوز دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ فوجی قیادت کے ساتھ سیلفیاں اور سیلفی ویڈیوز بنوانے میں ان کے آس پاس موجود سب ہی شائقین نے حصہ بقدر جثہ ڈالا ہے۔عموماً عوام سے دور رہنے والی اعلیٰ فوجی قیادت کو اپنے سامنے دیکھ کر لوگ پاکستان اور اس کی فوج کے حق میں نعرے بھی لگاتے نظر آئے۔

کچھ لوگوں نے تو انڈیا کے خلاف مایوس کن کارکردگی دکھانے والی ٹیم کی جانب سے اپنی بقاء کے لیے جنوبی افریقہ کو ہرا دینے پر سوشل میڈیا پر یہاں تک کہہ ڈالا کہ ‘یہ جو کارکردگی ہے اس کے پیچھے وردی ہے۔ایک اور صارف نے جنرل باجوہ کی تصویر جس میں وہ کسی سے مخاطب ہیں، پوسٹ کر کے لکھا کہ ‘کوئی پوچھے تو کہنا قمر باجوہ آیا تھا تو کسی نے لکھا کہ ‘آج اسٹیبلشمنٹ نے لندن میں بھی اپنا کام کر دکھایا۔

ایک صارف نے جنرل باجوہ اور جنرل آصف غفور کے میدان سے نکلنے کی تصویر پوسٹ کرتے ہوئے تحریر کیا کہ ‘تم سرخرو ہو گے ہر میدان میں۔۔۔ کام پورا ہوا اب چلتے ہیں۔یعنی ان لوگوں کے مطابق یا تو اب ملک کے دفاع کے بعد بین الاقوامی ٹورنامنٹس میں پاکستانی پوزیشن کے دفاع کی ذمہ داری بھی فوجی قیادت کی ہے یا یہ کہ کھلاڑیوں کا حوصلہ بڑھانے کے لیے اب چاچا کرکٹ کی ضرورت نہیں رہی۔ ظاہر ہے، جب اعلیٰ فوجی افسران میدان میں موجود ہوں تو اور کیا چاہیے؟
مگر سوشل میڈیا پر کچھ لوگ اس حوالے سے بھی سوال اٹھاتے نظر آئے کہ فوجی قیادت کا دورہ برطانیہ نجی دورہ تھا یا وہ سرکاری دورے پر ہوتے ہوئے میچ دیکھنے گئے تھے۔عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کی سابق رکن پارلیمان بشریٰ گوہر نے ایک صارف کی ٹویٹ کے جواب میں کہا کہ اس کی منظوری اور اخراجات کس نے دیے۔ اور یہ کہ انھیں امید ہے کہ اس کے لیے ٹیکس دہندگان کا پیسہ نہیں استعمال ہوا ہوگا۔

کرکٹ میچ سے متعلق بشریٰ گوہر کے اس سوال کے بعد پاکستان کی فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے جواباً ایک نہایت سخت الفاظ پر مشتمل ٹویٹ اپنے ذاتی اکاؤنٹ سے کی۔

انھوں نے لکھا کہ بشریٰ گوہر کو چاہیے کہ وہ ‘آئینے کے سامنے یا غلط عینک کے ساتھ ٹویٹ نہ کیا کریں۔ ساتھ ہی ساتھ انھوں نے بشریٰ گوہر کو اگلا میچ دیکھنے آنے کا مشورہ دیتے ہوئے انھیں اپنا ذاتی مہمان بننے کی بھی دعوت دی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *