مہنگائی میں پسی عوام پر ایک اور بوجھ، پی ٹی وی فیس بڑھانے کی منظوری

بجلی کے بلز میں صارفین پر سالانہ 21 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا

اسلام آباد: (پاکستان فوکس آن لائن)حکومت نے عوام کو مزید نچوڑنے کا پلان تیار کر لیا، وفاقی کابینہ نے سرکولیشن سمری کے ذریعے پی ٹی وی کی فیس بڑھانے کی منظوری دے دی۔اب حکومت بجلی کے بلوں میں35 روپے کی بجائے100 روپے وصول کیے جائیں گے۔تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے پی ٹی وی کی فیس میں 65 روپے اضافے کی منظوری دے دی، جس کے بعد بجلی کے بلوں میں پی ٹی وی کی فیس 35 روپے سے بڑھ کر 100 روپے ہوجائے گی۔حکومت نے وفاقی کابینہ سے پی ٹی وی فیس بڑھانے کی منظوری سرکولیشن شمیرے کے ذریعے لی ہے، وفاقی کابینہ کے اس فیصلے سے صارفین پر سالانہ 21 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔
پی ٹی وی لائسنس فیس بڑھا کر عوام سے اضافی21 ارب بٹورنے کا منصوبہ تیار کر لیا،پی ٹی وی 6دہائیوں سے مارکیٹنگ پلان بنانے میں بھی ناکام رہا ،جبکہ دوسری جانب بورڈنے اس امر کا اعتراف کیا ہے کہ سرکاری اسکرین نہ ویورز کو متوجہ کرتی ہے نہ ہی سرکاری شعبے سے اشتہارات ملتے ہیں ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق بجلی کی قیمتوں میں اضافی بوجھ برداشت کرنیوالے صارفین پر ایک اور بوجھ ڈالادیا ہے،رپورٹ کے مطابق اپنا کوئی بزنس پلان نہ رکھنے والے مالی مسائل کے شکار ادارے پی ٹی وی نے ملک کے بجلی صارفین سے اپنے آپریشنز کی مد میں اضافی 21ارب روپے لینے چاہتا ہے ۔پی ٹی وی بورڈ آف ڈائریکٹرز جس میں زیادہ تر کارپوریشن کے اپنے ملازمین اور دیگر سرکاری حکام شامل ہیں، انہوں نے ایک فنانشل پلان کی منظوری دی ہے جس کے تحت ٹیلی ویژن لائسنس فیس کو موجودہ 35 روپے ماہانہ سے بڑھا کر صارفین سے100روپے کردی ہے،اب عوام سے21 ارب روپے وصول کیے جائیں گے۔حیران کن بات یہ ہے کہ سرکاری نشریاتی ادارہ تقریباً 6 دہائیوں میں اپنا مارکیٹنگ پلان بنانے کے قابل نہیں ہوا جبکہ اس کے مقابلے میں کچھ سال قبل آنے والے کئی نجی نشریاتی ادارے منافع کمارہے ہیں، علاوہ ازیں حکومت نے بھی پی ٹی وی کو فنڈنگ روک دی ہے۔پی ٹی وی نے صارفین کے بجلی کے بلز میں شامل ٹی وی لائسنس کی فیس میں اضافہ کر کے اپنی آمدن میں اضافہ کرنے کی تجویز کا یہ جواز دیا ہے کہ دنیا بھر میں سرکاری نشریاتی اداروں کو حکومتیں ٹی وی لائسنس فیس کے ذریعے مدد کرتی ہیں تا کہ قومی بیانیے اور اتحاد کے لیے تعلیمی اور معلوماتی مواد کی ترویج کی جاسکے۔حالانکہ دنیا بھر میں سرکاری نشریاتی ادارےاگراشتہارات چلاتے ہیں تو وہ فیس نہیں لیتے۔جب آپ سرکاری چینل پر اشتہارات چلا رہے ہیں تو عوام پر اضافی بوجھ ڈالنے کی کیا ضرورت ہے؟ اس طرح تو اسٹیل ملزو دیگر نقصان میں جانے والے اداروں کیلئے اسی طرح عوام سے پیسہ وصول کرلیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *