کراچی: شہر کا سب سے بڑا آبی منصوبہ مذاق بن کر رہ گیا

کراچی: (پاکستان فوکس آن لائن) ملک کے سب سے بڑے شہر کا سب سے بڑا آبی منصوبہ ’کے فور‘مذاق بن کررہ گیا ہے۔
وزیراعلی سندھ کو پیش کردہ فورپراجیکٹ کی انکوائری رپورٹ میں تحقیقاتی کمیٹی نے انکشاف کیا ہے کہ آغاز سے ہی منصوبہ بندی کا فقدان تو تھا ہی پراجیکٹ کنسلٹنٹ عثمانی اینڈ کمپنی بھی منصوبے کی اہل نہیں تھی۔رپورٹ کے مطابق کنسلٹنٹ کمپنی نے پی سی ون کی تیاری میں خامیوں کا اعتراف کرلیا ہے۔کنسلٹنٹ کمپنی نے حیران کن طور پر وہ روٹ منتخب کیا جو ناقابل عمل قرار دیا گیا تھا۔ کے فور منصوبے کے پراجیکٹ ڈائریکٹر سلیم صدیقی نے خامیوں کے باوجود کمپنی سے معاہدہ ختم نہ کیا۔ یہی نہیں بلکہ ایف ڈبلیو او کو منصوبہ منتقل کرتے ہوئے مزید کئی حصوں کو بھی نکال دیا گیا۔رپورٹ کے مطابق تاخیر اور روپے کی قدر گرنے سے منصوبے کی لاگت میں ہوش ربا اضافہ ہوا ہے جب کہ واٹر بورڈ افسران بھی منصوبے کی خامیوں کی نشاندہی نہ کرسکے۔رپورٹ میں فزیبلیٹی بنانے والی کنسلٹنٹ کمپنی کو ہی سپر ویژن کیلئے بھی تقرری کا انکشاف ہوا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت پرسیکریٹری ایکسائز اعجاز احمد مہیسرنے 6ماہ میں رپورٹ تیار کی ہے۔
واضح رہے کہ حکومتوں کی ناقص پالیسی اورمبینہ کرپشن کی وجہ سے پاکستان کا سب سے بڑا شہر پانی کے شدید بحران کا شکار ہے۔ملک کا معاشی انجن کہلانے والے ایک کروڑ ستر لاکھ نفوس کے شہر کو ضرورت سے نصف پانی دستیاب ہے۔شہر قائد کراچی کو روزانہ تقریباً سو کروڑ گیلن پانی کی ضرورت ہے لیکن شہر کو محض 58 کروڑ گیلن پانی دستیاب ہے۔پینتالیس کروڑ گیلن پانی دھابیجی، تین کروڑ گیلن گھارو اور دس کروڑ گیلن حب ڈیم سے فراہم کیا جارہا ہے۔ شہر کو حب ڈیم سے سپلائی تقریباً چار برس بعد بحال ہوئی ہے۔شہر میں پانی کے بحران کی ایک اور بڑی وجہ واٹر بورڈ کی لائنوں کا رساؤ بھی ہے اور واٹر بورڈ کے اعداد وشمار کے مطابق تقریباً سترہ کروڑ گیلن پانی رساؤ کے سبب ضائع ہو جاتا ہے۔واٹر بورڈ کے اپنے اعدادو شمار کے مطابق شہریوں کو صرف چالیس کروڑ گیلن پانی ہی مل پاتا ہے اور رہی سہی کسر پانی چور مافیا پوری کردیتا ہے ۔کراچی میں پانی کے بحران کی سب سے بڑی وجہ کے فور پروجیکٹ کا التوا بھی ہے۔ 26 کروڑگیلن کا یہ منصوبہ دو ہزار سولہ میں شروع ہوا اور اسے جون دو ہزار اٹھارہ میں مکمل ہونا تھا مگر ماہرین کہتے ہیں کہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سے چار برس لگ سکتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *