وزیراعظم نے فرشتہ سے مبینہ زیادتی اور قتل کا نوٹس لے لیا، پاک فوج کی بھی مذمت

اسلام آباد: (پاکستان فوکس آن لائن) اسلام آباد میں اغوا کے بعد قتل ہونے والی بچی فرشتہ کی گمشدگی کی ایف آئی آر درج نہ کرنے والے ایس ایچ او اور تفتیشی افسر کو گرفتار کر لیا گیا۔ دونوں معطل پولیس اہلکاروں کے خلاف مقتول بچی کے والد کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ تفصیلات کے مطابق شہر اقتدار میں فرشتہ مہمند نامی بچی سے مبینہ زیادتی کے بعد قتل کے بعد مجرمانہ غفلت کے مرتکب معطل ایس ایچ او شہزاد ٹاؤن اور تفتیشی افسر کے خلاف مقدمہ درج کرکے انھیں گرفتار کر لیا گیا ہے۔آئی جی پولیس عامر ذوالفقار خان دیگر پولیس افسران کے ساتھ مقتولہ بچی فرشتہ کے گھر پہنچے۔ انہوں نے ایس ایچ او شہزاد ٹاؤن کیخلاف مقدمہ کی کاپی متاثرہ خاندان کو دی اور مجرمان کو کیفر کردار تک پہنچانے کی یقین دہانی کرائی۔
دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان نے بچی فرشتہ کے قتل معاملے پر براہ راست ایکشن لیتے ہوئے ڈی ایس پی عابد کو معطل جبکہ ایس پی عمر خان کو او ایس ڈی بناتے ہوئے آئی جی اسلام آباد عامر ذوالفقار اور ڈی آئی جی آپریشنز وقار الدین سید سے بھی وضاحت طلب کر لی ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے پولیس حکام سے وضاحت طلب کی ہے کہ ایف آئی آر میں نامزدگی کے باوجود پولیس اہلکاروں کو بروقت گرفتار کیوں نہیں کیا گیا؟وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق وزیراعظم نے ایس ایچ او کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا اور فوری طور پر محکمانہ کارروائی شروع کرنے کی ہدایت کی ہے۔وزیراعظم نے جوڈیشل انکوائری مکمل ہونے تک ڈی ایس پی کو معطل اور ایس پی کو او ایس ڈی بنانے کا بھی حکم دیا ہے جبکہ روزانہ کی بنیاد پر واقعہ کی اپ ڈیٹس دینے کی ہدایت کی ہے۔

علاوہ ازیں پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے بھی اپنے بیان میں کہا ہے کہ معصوم فرشتہ کا بہیمانہ قتل انتہائی قابل مذمت ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ واقعے کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے، پاک فوج اس معاملے پر ہر قسم کی مدد کیلئے تیار ہے۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ شر پسند عناصر سے نئی نسل کےتحفظ کیلئے ہمیں متحد ہونا ہوگا۔
فرشتہ کے قتل کی ابتدائی رپورٹ جاری
وزیراعظم آفس نے بچی فرشتہ کے قتل کی ابتدائی رپورٹ جاری کر دی جس میں کہا گیا ہے کہ فرشتہ کے والد نے 15 مئی کو بچی کی گمشدگی سے متعلق پولیس کو رپورٹ کیا۔چار دن کی تاخیر سے 19 مئی کو ایف آئی آر درج کی گئی، بچی فرشتہ کی لاش 20 مئی کو ملی۔رپورٹ کے مطابق بچی کے لواحقین کے ساتھ پولیس کا رویہ سخت تھا، پولیس نے بچی کے اہلخانہ سے اپنے دفاتر کی صفائی کروائی، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کی مداخلت پر بچی کا پوسٹ مارٹم کیا گیا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ سسٹم کی ناکامی ہے کہ بچی کے اہلخانہ سے دفاتر کی صفائی کروائی گئی، آئی جی اور ڈی آئی جی وضاحت کریں بچوں کے خلاف جرائم کی روک تھام کیلئے میکنزم کیوں نہیں بنا؟ متاثرہ خاندان کو فوری انصاف کیلئے سسٹم کی ناکامی کی وجوہات بتائی جائیں۔خیال رہے کہ فرشتہ کا تعلق خیبرپختونخوا کے قبائلی ضلع مہمند سے تھا جو اپنے والدین کے ساتھ اسلام آباد کے علاقے شہزاد ٹاؤن میں مقیم تھی۔بچی 15 مئی کو لاپتہ ہوئی جس کی پولیس نے گمشدگی کی ایف آئی آر درج کرنے میں 4 دن لگائے۔چند روز قبل فرشتہ کی لاش جنگل سے ملی تھی جسے پوسٹ مارٹم کےلیے پولی کلینک اسپتال منتقل کیا گیا۔لواحقین کا کہنا تھا کہ پولیس نے 5 دن تک بچی کو مرضی سے فرار ہونے کا الزام لگا کر رپورٹ درج نہیں کی۔مبینہ زیادتی اور قتل کے خلاف مقتول بچی کے لواحقین لاش ترامڑی چوک پر رکھ کر احتجاج کیا اور الزام عائد کیا کہ بچی سے زیادتی اور قتل کی ذمہ دار پولیس ہے۔تاہم غفلت برتنے پر ایس ایچ او تھانہ شہزاد ٹاؤن اور دیگر اہل کاروں کے خلاف مقدمہ درج کرانے کی یقین دہانی پر احتجاج ختم کردیا گیا۔پولیس نے فرشتہ کے قتل کے الزام میں اُسی کے قریبی رشتہ دار کو حراست میں لے لیا ہے اور اسے پہلے سے گرفتار افراد کی نشاندہی پر حراست میں لیا گیا ہے۔پولیس کی جانب سے گرفتار ملزم سے متعلق مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں تاہم تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا گیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *