کیا وزیر اعظم عمران خان نے اسٹیبلشمنٹ کو واک آؤٹ کا پیغام دے دیا؟

لاہور: پاکستان کے روایتی ’’بادشاہ گروں‘‘ نے تحریک انصاف کیلیے اپنی ’’سروسز‘‘ محدود کرنا شروع کر دی ہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور تحریک انصاف کی’’ لو اسٹوری ‘‘ میں بریک اپ کے خطرات بڑھ رہے ہیں؟عمران خان موجودہ صور تحال سے پریشان اور مشتعل ہیں، بالخصوص نواز شریف کی ضمانت پر رہائی کو ممکنہ ’’ڈیل‘‘ کا پہلا قدم قرار دیے جانے کی باتوں نے کپتان کا موڈ خراب کر دیا ہے۔اسلام آباد کے حلقوں میں مختلف قسم کی افواہیں گردش کرنے لگی ہیں اور نواب وسان نے بھی انہی افواہوں پر مبنی خواب دیکھ لیا ہے کہ عمران خان اسٹیبلشمنٹ سے خوش نہیں ہیں اور کپتان نے حکومتی میچ کے دوران ہی ’’واک آوٹ‘‘ کرنے کا انتباہی پیغام ( دوسرے معنوں میں وارننگ ) بادشاہ گروں تک پہنچایا ہے۔گزشتہ 8 ماہ کے دوران تحریک انصاف کی حکومت معیشت اور گڈ گورننس کے میدان میں ناکامیوں کا شکار ہے ، متعدد وزراء کی کارکردگی تشویشناک حد تک مایوس کن ہے ۔تحریک انصاف کے با خبر حلقے بھی اسٹیبلشمنٹ کے بدلتے رویے کے بارے اپنے خدشات کا ’’ آف دی ریکارڈ ‘‘ اظہار کر رہے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ تحریک انصاف حکومت کی غیر تسلی بخش کارکردگی اور عوام کی جانب سے حکومت بارے منفی فیڈ بیک نے اسٹیبلشمنٹ کو ’’ متبادل ‘‘ آپشنز بارے سوچنے پر مجبور کر دیا ہے ۔​

کیا ہمارے میڈیا کواتنی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے؟
یہ خبر کل ایکسپریس نیوز نے چلائی اور پھراپنی ویب سائٹ سے ڈیلیٹ کردی کیا میڈیا کواتنی غیرذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے؟بغیر کسی تحقیق ایسی خبر لگائی ہی کیوں؟ آج کل جدید زمانہ ہے لوگوں نے اسکرین شاٹ بھی لے لئے اس خبر کہ جو لوگ ٹوئٹر پر اپنے کمنٹس بھی بھی اسکرین شاٹ لگا رہے ہیں۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *