مائیکل جیکسن کی بیٹی پیرس جیکسن کی خودکشی کی کوشش

لاس اینجلس:(ویب ڈیسک) پاپ موسیقی کے بادشاہ آنجھانی مائیکل جیکسن کی بیٹی ماڈل 20 سالہ پیرس جیکسن یوں تو 2013 میں بھی ڈپریشن اور ذہنی مسائل پر بات کر چکی تھیں۔پیرس جیکسن نے اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے والد کے موت کے بعد ذہنی مسائل، الجھنوں اور پریشانیوں کے باعث 2013 میں خودکشی کرنے کی کوشش بھی کی تھی۔تاہم اب ایک بار پھر اطلاعات ہیں کہ پیرس جیکسن نے خودکشی کی کوشش کی۔امریکی شوبز اور سیلیبرٹی ویب سائٹ ’ٹی ایم زیڈ‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ 20 سالہ پیرس جیکسن کو 16 مارچ کو تشویش ناک حالت میں ہسپتال داخل کیا گیا تھا۔رپورٹ میں ذرائع سے بتایا گیا کہ پیرس جیکسن نے 16 مارچ کو اپنی جان لینے کی کوشش کی، جس وجہ سے انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ طبی امداد دیے جانے کے بعد پیرس جیکسن کو اگرچہ ہسپتال سے فارغ کردیا گیا، تاہم ڈاکٹرز ایک ٹیم مسلسل ان کی نگرانی کر رہی ہے۔رپورٹ میں پولیس اور سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ انہیں لاس اینجلس میں ماڈل کے گھر کے قریبی پتے سے ایمبولینس کے لیے کال موصول ہوئی تھی۔دوسری جانب معروف میگزین ’پیپلز‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ پیرس جیکسن ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد اپنے بوائے فرینڈ گیبریل گلین کے ساتھ خوشگوار موڈ میں دیکھی گئیں۔

رپورٹ میں ذرائع سے بتایا گیا کہ پیرس جیکسن کو طبی امداد کے بعد لاس اینجلس میں اپنے دیرینہ بوائے فرینڈ کے ساتھ فلم دیکھنے کے لیے سینما ہال کے قریب دیکھا گیا۔رپورٹ کے مطابق پیرس جیکسن خوش دکھائی دے رہی تھیں اور انہوں نے گاڑی بھی خود چلائی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ پیرس جیکسن کو اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد دیکھا گیا۔خودکشی کی کوشش کی خبریں سامنے آنے کے بعد پیرس جیکسن نے ایک ٹوئیٹ کی، جس میں انہوں نے کچھ الفاظ لکھے بغیر سوالات کی بہت ساری نشانیاں لکھیں۔پیرس جیکسن نے ایک اور ٹوئیٹ میں ٹی ایم زیڈ کو گالی دیتے ہوئے ان کی خبر کو جھوٹا قرار دیا۔پیرس جیکسن نے 3 دن قبل ہی کہا تھا کہ وہ اپنے والد مائیکل جیسکن پر لگے بچوں پر جنسی زیادتی کے الزامات پر کوئی صفائی دینا نہیں چاہتی۔پیرس جیکسن کا کہنا تھا کہ ان کا کام یہ نہیں کہ وہ اپنے والد پر بچوں کے ساتھ زیادتی کے الزامات کے جوابات اور صفائیاں دیتی پھریں۔پیرس جیکسن نے یہ بیان اس ڈاکیومینٹری کے بعد دیا تھا جسے چند ہفتے قبل ہی ریلیز کیا گیا تھا۔اس ڈاکیومینٹری میں 2 افراد نے دعویٰ کیا تھا کہ پاپ گلوکار مائیکل جیکسن نے انہیں اس وقت زیادتی کا نشانہ بنایا تھا جب وہ بچے تھے۔ڈاکیومینٹری میں الزامات لگانے والے دونوں افراد کی عمریں اب 30 سال سے زائد ہیں۔ان دونوں افراد کے علاوہ بھی متعدد افراد نے مائیکل جیکسن پر زیادتی کے الزامات لگائے تھے۔آنجھانی پاپ گلوکار پر درجنوں بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنائے جانے کے الزامات لگائے جاتے رہے ہیں۔ مائیکل جیکسن کو اپنی زندگی میں بھی ان ہی الزامات کا سامنا تھا جب کہ ان کی موت کے بعد ان الزامات میں شدت دیکھنے میں آئی اور بہت سارے لوگ سامنے آئے جنہوں نے دعویٰ کیا کہ پاپ گلوکار انہیں بچپن میں زیادتی کا نشانہ بنا چکے ہیں۔خیال رہے کہ مائیکل جیکسن 2009 میں چل بسے تھے، ان کی موت دوران علاج ہسپتال میں ہوئی تھی، بعد ازاں انہیں زہر یا پھر ضرورت سے زائد دوا دے کر قتل کیے جانے کی چہ مگوئیاں بھی ہوئیں۔مائیکل جیکسن کو پاپ موسیقی کا بادشاہ کہا جاتا ہے، ان کے مداح دنیا بھر میں موجود ہیں،پیرس جیکسن ان کی اکلوتی بیٹی ہیں، ان کے علاوہ مائیکل جیکسن کو 2 بیٹے مائیکل جونیئر جیکسن اور بلینکٹ جیکسن بھی ہیں۔مائیکل جونیئر جیکسن گلوکار ہیں جب کہ بلینکٹ جیکسن نے فی الحال کسی پروفیشن کو باقاعدہ طور پر اختیار نہیں کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *