سب مذاق سمجھتے رہے اور ٹرمپ نے سرکاری دورہ ملتوی کردیا

گرین لینڈ کی فروخت سے انکار پر ٹرمپ برہم، ڈنمارک کا دورہ منسوخ

واشنگٹن: (پاکستان فوکس آن لائن)ڈنمارک کی جانب سے اپنے خودمختار جزیرے گرین لینڈ کو فروخت کرنے سے انکار پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈنمارک کا سرکاری دورہ ملتوی کردیا۔
گزشتہ دنوں ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے مشیران سے کہا تھا کہ اگر امریکا گرین لینڈ کو خریدے لے تو اس کے لیے بہت اچھا ہوگا لیکن اس وقت ٹرمپ کے اس بیان کو سب ڈنمارک، گرین لینڈ اور خود امریکی سیاستدان مذاق سمجھ رہے تھے۔
گرین لینڈ نے بھی ٹرمپ کے اس خیال کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ گرین لینڈ سرمایہ کاری کیلئے کھلا ہے لیکن برائے فروخت نہیں۔اسی دوران ڈنمارک کی ملکہ مارگریت ثانی نے ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے ملک کا سرکاری دورہ کرنے کی دعوت دی۔ ٹرمپ اور امریکی خاتون اول کو 2 سمتبر کو ڈنمارک کا دورہ کرنا تھا۔ڈنمارک نے امریکی صدر کے استقبال کی تمام تر تیاریاں بھی کرلی تھیں تاہم عین موقع پر ٹرمپ نے یہ کہہ کر ڈنمارک کا سرکاری دورہ ملتوی کردیا کہ جب ڈنمارک ، گرین لینڈ کو فروخت کرنے میں دلچپسی نہیں رکھتا تو وہ بھی دورہ نہیں کرسکتے۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری پیغام میں ٹرمپ نے کہا کہ ڈنمارک ایک بہت ہی خاص ملک ہے لیکن وہاں کی وزیراعظم میٹ فریڈرکسن کے اس بیان کے بعد کہ وہ گرین لینڈ کو فروخت کرنے کے حوالے سے گفتگو کرنے میں دلچپسی نہیں رکھتیں، میں اپنا دورہ ملتوی کررہا ہوں۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ ڈنمارک کی وزیراعظم نے سیدھی بات کرکے امریکا اور اپنے ملک کا خرچہ اور محنت بچائی ہے جس کے لیے میں ان کا مشکور ہوں، ممکن ہے مستقبل میں کبھی میں دورے کے بارے میں سوچوں۔ٹرمپ کے اس فیصلے پر خود ڈنمارک کی وزیراعظم بھی حیران ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہماری تیاریاں مکمل تھیں اور میں امریکی صدر سے ملنے کی منتظر تھی۔انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود امریکا اور ڈنمارک کے اچھے تعلقات پر کوئی فرق نہیں پڑے گا، ہم درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ گرین لینڈ میں کیوں دلچسپی لے رہے ہیں؟
ممکنہ طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قدرتی وسائل، معدنیات (کوئلہ، تانبا، لوہا، زنک) اور جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے گرین لینڈ میں دلچسپی ہے۔اس معاملے سے واقف دو افراد نے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ صدر ٹرمپ گرین لینڈ کے محل وقوع اور نیشنل سیکیورٹی کے حوالے سے اس کی اہمیت کی وجہ سے بھی گرین لینڈ میں دلچسپی رکھتے ہیں۔امریکا سرد جنگ کے دور سے ہی گرین لینڈ میں اپنا ریڈار بیس قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

گرین لینڈ کہاں واقع ہے؟
گرین لینڈ شمالی بحر اوقیانوں اور بحر منجمد شمالی کے درمیان واقع ہے اور آسٹریلیا کے بعد دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ ہے۔اس کی آبادی تقریباً 56000 نفوس پر مشتمل ہے، اس کی اپنی پارلیمنٹ اور محدود خودمختار حکومت ہے۔گرین لینڈ کا 80 فیصد حصہ برف سے ڈھکا ہوا ہے لیکن گلوبل وارمنگ کی وجہ سے برف تیزی سے پگھل رہی ہے اور گرین لینڈ کے معدنیات تک رسائی ممکن ہورہی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *