وزیراعظم عمران خان نے نیو گوادرانٹرنیشنل ایئرپورٹ کا سنگ بنیاد رکھ دیا

گوادر کی ترقی پاکستان کی خوشحالی، وزیر اعظم کاکوئٹہ تا گوادر ریلوے ٹریک بچھانے کا اعلان، مقامی آباد کو ہیلتھ کارڈ دیئے جائیں گے

گوادر: (پاکستان فوکس آن لائن)وزیراعظم عمران خان کا نیو گوادر ایئرپورٹ کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ مستقبل میں گوادر کی ترقی سے پورے خطے کو فائدہ ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا سنگ بنیاد رکھ دیا ہے۔ اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور چینی سفیر یاؤ ژنگ سمیت اہم شخصیات بھی موجود تھیں۔نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اے 380 جیسے بڑے طیارے بھی لینڈ کر سکیں گے۔ ایئرپورٹ میں سالانہ 30 ہزار ٹن کارگو ہینڈلنگ کی گنجائش ہو گی۔نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ چالیس ارب روپے کی لاگت سے تین سال میں مکمل کیا جائے گا۔ گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ چائنا پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کا اہم منصوبہ قرار دیا جا رہا ہے۔ چائنا کے اشتراک سے سول ایوی ایشن اتھارٹی ایئرپورٹ کو تعمیر کرے گی۔ نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو دور جدید کے تقاضوں کے مطابق تعمیر کیا جائے گا۔اس موقع پر تقریب سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بلوچستان میں ہوئی ترقی سے یہاں کے عوام کو فائدہ نہیں ہوا۔ ترقی وہ ہوتی ہے جس سے مقامی افراد کو فائدہ ہو۔ مستقبل میں گوادر کی ترقی سے پورے خطے کو فائدہ ہوگا اور سارے پاکستان میں ڈویلپمنٹ ہوگی۔ وزیراعظم عمران خان نے گوادر کی ترقی کیلئے اٹھائے گئے دیگر اقدامات اور منصوبوں کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ مقامی لوگوں کو گوادر کی ترقی سے مستفید کرنے کیلئے تربیت فراہم کریں گے۔ گوادر کے ماہی گیروں کیلئے خصوصی گرانٹس رکھی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ گوادر کے ہر خاندان کو 7 لاکھ 20 ہزار روپے کا ہیلتھ کارڈ دیں گے۔ گوادر کا علاقہ نیشنل گرڈ سے منسلک نہیں، پورے علاقے کو اس سے منسلک کریں گے۔ گندگی صاف کرنے کا پلانٹ لگائیں گے اور سالڈ ویسٹ کی ٹریٹمنٹ اور پانی ری سائیکل کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ریلوے ٹیکنالوجی میں بہتری کیلئے چین سے مدد لے رہے ہیں۔ چینی ٹرین میں سفر کریں تو 4 گھنٹے میں کراچی سے لاہور پہنچ جائیں۔ پورے پاکستان میں ریلوے ٹریک بچھائیں گے جبکہ گوادر سے کوئٹہ کیلئے بھی ریلوے ٹریک بنائیں گے۔

ماضی میں مفادات کیلئے بلوچستان کو نظر انداز کیا گیا، وزیراعظم عمران خان

اس سے قبل اپنے دورہ بلوچستان کے دوران وزیر اعظم عمران خان کوئٹہ پہنچے، جہاں گورنر اور وزیر اعلیٰ بلوچستان نے ان کا استقبال کیا۔جس کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے گورنر،وزیر اعلیٰ بلوچستان اور اہم وفاقی وزرا کے ہمراہ کوئٹہ کینٹ پہنچے، جہاں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے آرمی ایوی ایشن بیس پر ان کا استقبال کیا۔بعد ازاں وزیر اعظم نے کوئٹہ-ژوب ڈبل کیرج وے روڈ اور کارڈیک سینٹر کا سنگ بنیاد رکھا، اس دوران بلوچستان کی صوبائی قیادت اور آرمی چیف بھی موجود تھے۔اس موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب میں وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ بلوچستان خوش قسمت ہے کہ انہیں ایسا وزیر اعلیٰ ملا، پاکستان میں تبدیلی کی سوچ ہے اور پرانے طریقوں سے چلنے والا پاکستان آگے نہیں جاسکتا۔انہوں نے کہا ہم اپنے پرانے قرضوں پر صرف 6 ارب روپے سود دے رہے ہیں، ملک جس طرح چل رہا تھا وہ تباہی کی طرف جارہا تھا۔ایک کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ملکوں کو کس طرح مقروض کیا جاتا ہے، اس کتاب میں بتایا گیا ہے، جس طرح اشرافیہ کو خریدا جاتا اسے کرپٹ کیا جاتا اور ملک کا پیسہ باہر لے جاتا۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ریاست کا کام عوام کو تحفظ، تعلیم، پانی، صحت، روزگار فراہم کرنا ہے اور یہ ہر شہری کا بنیادی حق ہے جبکہ بلوچستان کا ایک خصوصی معاملہ ہے کیونکہ یہاں سیاست صرف انتخابات جیتنے کے لیے ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے سابق وزرا اعظم نے 5 سال کے دوران بلوچستان سے زیادہ لندن کے دورے کیے کیونکہ اقتدار میں آنے کے لیے بلوچستان کی ضرورت نہیں ہوتی، یہاں صرف انتخابات کا سوچا جاتا ہے، لوگوں سے اتحاد کرلیا جاتا ہے۔اپنے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں لوگ 2 چیزوں سے زیادہ مرتے ہیں، ایک امراض قلب اور دوسرا کینسر، بلوچستان میں کوئی امراض قلب کا ادارہ نہیں تھا اور لوگوں کو کراچی جانا پڑتا تھا لیکن میں آرمی چیف کا مشکور ہوں کہ انہوں نے یو اے ای سے رابطے کے ذریعے اس ادارے کے لیے فنڈنگ کی۔انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کا ہونا بہت ضروری تھا، اس کے لیے پاک فوج اور صوبائی حکومت کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، اس منصوبے سے یہ میڈیکل سٹی بن جائے گا اور ہمارا منصوبہ ہے کہ ہم فوج اور صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر ایک کینسر کا ادارہ قائم کریں۔پاک چین اقتصادی راہداری کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ خوشی ہے کہ 305 کلو میٹر کے مغربی روٹ کا سنگ بنیاد رکھا گیا، یہ کوئٹہ سے ژوب 305 کلو میٹر ہے، یہ منصوبہ ایک گیم چینجر ہے یہ بلوچستان کو نہ صرف پورے پاکستان سے ملائے گا بلکہ تمام پسماندہ علاقوں کو بھی جوڑے گا، ہمیں مغربی روٹ کو پہلے بنانا چاہیے تھا کیونکہ چین کے لیے سی پیک کی بڑی وجہ یہ تھی کہ ان کا مغربی حصہ پیچھے رہ گیا تھا لہٰذا ہمیں بھی کوشش کرنی چاہیے تھی کہ مغربی روٹ کو پہلے بنائیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کے ساتھ بڑی تبدیلیاں آئیں گی، اس کے علاوہ ہم منصوبہ بنارہے ہیں کہ کوئٹہ سے تافتان ایران تک ایک ریلوے ٹریک بنے اور وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید اس سلسلے میں بات کر رہے ہیں۔کوئٹہ کے ماسٹر پلان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ملک کے تمام شہروں کے ماسٹر پلان نہیں ہے، جب تک ماسٹر پلان نہیں ہوگا شہریوں کو سہولیات فراہم نہیں کی جاسکیں گی۔اپنی بات چیت جاری رکھتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے لوگوں کو سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اقلیت میں رہ جائیں گے، اس کا سب سے بڑا حل یہ ہے کہ یہاں تربیتی ادارے ہوں اور مقامی لوگوں کی صلاحیتوں کو نکھارا جاسکے۔بلوچستان کی ترقی کے بارے میں عمران خان نے کہا کہ یہاں ایک مضبوط بلدیاتی حکومتی نظام لانا ہوگا، اس کے لیے پنجاب اور پختونخوا کی طرز کا بلدیاتی نظام لانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت اگلے الیکشن جیتنے کے لیے نہیں آئی، بلوچستان ترقی کرے گا تو پاکستان کی ترقی ہوگی اور یہ آگے بڑھے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *